Hadith #83 — المستدرك علی الصحیحین (تکملہ) — Sihah Sitta
المستدرك علی الصحیحین (تکملہ)كتاب الإيمان#83
عربی (اصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البيروتي، حدثني أَبي قال: سمعت الأوزاعيَّ. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن مَخلَد الجوهري ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كثير المِصِّيصي، حدثنا الأوزاعي. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، حدثنا الأوزاعي - وهذا لفظ حديث أبي العباس - قال: حدثني ربيعة بن يزيد ويحيى بن أبي عمرو السَّيباني قالا: حدثنا عبد الله بن فَيرُوزَ الدَّيلَمي قال: دخلتُ على عبد الله بن عمرو بن العاص وهو في حائطٍ له بالطائف يقال له: الوَهْط، وهو يخاصرُ(2)فتًى من قريش، وذلك الفتى يُزَنُّ بشرب الخمر، فقلت لعبد الله بن عمرو: خِصالٌ تَبلُغني عنك تحدِّث بها عن رسول الله ﷺ: أنه من شرب الخمرَ شَرْبةً، لم تُقبَل توبتُه أربعين صباحًا - فاختَلَجَ الفتى يدَه من يد عبد الله ثم ولَّى - وأنَّ الشقيَّ من شَقِيَ في بطن أُمه، وأنه من خَرَجَ من بيته لا يريد إلّا الصلاةَ ببيت المقدِس، خرج من خطيئته كيومَ وَلَدتْه أمُّه. فقال عبد الله بن عمرو: اللهم إني لا أُحِلُّ لأحدٍ أن يقول عليَّ ما لم أقل، إني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"مَن شربَ الخمرَ شَرْبةً، لم تُقبَلْ توبتُه أربعين صباحًا، فإن تابَ تابَ الله عليه، فإنْ عادَ لم تُقبَلْ توبتُه أربعين صباحًا - فلا أدري في الثالثة أو في الرابعة قال: - فإنْ عادَ كان حقًّا على الله أن يَسقِيَه من رَدْغةِ الخَبَالِ يومَ القيامة". قال: وسمعت رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ الله خلقَ خَلْقَه في ظُلْمةٍ، ثم ألقى عليهم من نُورِه، فمن أصابه من ذلك النُّورِ يومئذٍ شيءٌ فقد اهتدى، ومن أخطأَه ضَلَّ"، فلذلك أقول: جَفَّ القلمُ على عِلْم الله. وسمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ سليمان بن داود سألَ ربَّه ثلاثًا، فأعطاه اثنتين، ونحن نرجو أن يكونَ قد أعطاه الثالثةَ: سأله حُكمًا يُصادِفُ حُكْمَه، فأعطاه إياه، وسأله مُلكًا لا ينبغي لأحدٍ من بعدِه، فأعطاه إياه، وسأله أيُّما رجل يخرجُ من بيته لا يريدُ إلّا الصلاةَ في هذا المسجد، أن يخرجَ من خطيئته كيومَ وَلَدتْه أمُّه، فنحن نرجو أن يكونَ اللهُ قد أعطاه إيَّاه"(1). قال الأوزاعي: حدثني ربيعة بن يزيد بهذا الحديث فيما بين المِقسِلَّاط والباب الصغير(1).هذا حديث صحيح قد تداوَلَه الأئمة، وقد احتجَّا بجميع رواته(2)ثم لم يُخرجاه، ولا أعلمُ له علةً.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 83 - على شرطهما ولا علة له
انگریزی ترجمہ
'Abdullah ibn 'Amr ibn al-'As (may Allah be pleased with them both) narrated three hadiths from the Messenger of Allah (peace be upon him). First: "Whoever drinks wine once, his repentance will not be accepted for forty mornings. If he repents, Allah will accept his repentance. If he returns to it, his repentance will not be accepted for forty mornings" — and the narrator was unsure if it was the third or fourth time he said — "and if he returns again, it becomes Allah's right to make him drink from the mud of khabal (the pus and blood of the people of the Fire) on the Day of Resurrection." Second: "Indeed, Allah created His creation in darkness, then cast upon them from His light. Whoever was touched by that light on that day was guided, and whoever missed it went astray." For this reason, the narrator said: "The Pen has dried upon the knowledge of Allah." Third: "Indeed, Sulayman ibn Dawud (Solomon son of David, peace be upon them) asked his Lord for three things. He was granted two, and we hope he was granted the third: He asked for judgment that would accord with His judgment, and He granted it. He asked for a kingdom that would not belong to anyone after him, and He granted it. And he asked that any man who leaves his home intending only to pray in this mosque (al-Aqsa), would emerge from his sins as on the day his mother bore him — and we hope that Allah granted him that too." Al-Hakim graded it sahih.
اردو ترجمہ
عبداللہ بن فیروز دیلمی کہتے ہیں کہ میں طائف میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے ایک باغ میں داخل ہوا جسے«الوهط»کہا جاتا ہے، وہ قریش کے ایک نوجوان کا ہاتھ تھامے (ساتھ ساتھ) چل رہے تھے، اور اس نوجوان پر شراب نوشی کا الزام تھا۔ میں نے عبداللہ بن عمرو سے کہا: مجھے آپ کے حوالے سے کچھ باتیں پہنچی ہیں جو آپ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے بیان کرتے ہیں: یہ کہ جس نے ایک بار شراب پی، اس کی توبہ چالیس صبح تک قبول نہیں ہوتی - (یہ سن کر) اس نوجوان نے اپنا ہاتھ عبداللہ کے ہاتھ سے چھین لیا اور پیٹھ پھیر کر چلا گیا - اور یہ کہ بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ ہی میں بدبخت لکھ دیا گیا، اور یہ کہ جو شخص اپنے گھر سے صرف بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نیت سے نکلے گا، وہ اپنے گناہوں سے ایسے پاک ہو جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو۔ عبداللہ بن عمرو نے (یہ سن کر) کہا: اے اللہ! میں کسی کے لیے یہ حلال نہیں کرتا کہ وہ میری طرف وہ بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی، (اصل بات یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا ہے:”جس نے ایک گھونٹ شراب پی، چالیس صبح تک اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، پھر اگر اس نے توبہ کر لی تو اللہ اسے معاف فرما دے گا، اگر اس نے دوبارہ پی تو چالیس صبح تک توبہ قبول نہیں ہوگی - راوی کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی بار آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: - اگر وہ پھر بھی باز نہ آیا تو اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ اسے قیامت کے دن«ردغة الخبال»(اہل جہنم کا پیپ اور خون) پلائے۔“انہوں نے مزید کہا کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا:”بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا، پھر ان پر اپنے نور کی تجلی فرمائی، پس اس دن جس پر اس نور کا کچھ حصہ پڑ گیا اس نے ہدایت پا لی اور جس سے وہ خطا ہو گیا وہ گمراہ ہو گیا“، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم کے مطابق قلم (تقدیر لکھ کر) خشک ہو چکا ہے۔ اور میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا:”سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں، اللہ نے انہیں دو عطا کر دیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری بھی انہیں عطا کر دی ہو گی: انہوں نے اللہ سے ایسا فیصلہ (کرنے کی قوت) مانگی جو اللہ کے فیصلے کے مطابق ہو، اللہ نے انہیں وہ عطا کر دی، اور انہوں نے ایسی بادشاہی مانگی جو ان کے بعد کسی اور کے لائق نہ ہو، اللہ نے انہیں وہ بھی عطا کر دی، اور انہوں نے یہ دعا کی کہ جو شخص بھی اپنے گھر سے صرف اس مسجد (بیت المقدس) میں نماز پڑھنے کی نیت سے نکلے، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائے جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو، تو ہمیں امید ہے کہ اللہ نے انہیں یہ (تیسری دعا) بھی عطا فرما دی ہوگی۔“امام اوزاعی کہتے ہیں کہ مجھ سے ربیعہ بن یزید نے یہ حدیث (دمشق کے مقام) مقسلاط اور باب صغیر کے درمیان بیان کی تھی۔یہ صحیح حدیث ہے جسے ائمہ نے روایت کیا ہے اور ان تمام راویوں سے (شیخین نے) احتجاج کیا ہے لیکن پھر بھی اسے روایت نہیں کیا، اور میں اس کی کوئی علت نہیں جانتا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 83]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البيروتي، حدثني أَبي قال: سمعت الأوزاعيَّ. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن مَخلَد الجوهري ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كثير المِصِّيصي، حدثنا الأوزاعي. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، حدثنا الأوزاعي - وهذا لفظ حديث أبي العباس - قال: حدثني ربيعة بن يزيد ويحيى بن أبي عمرو السَّيباني قالا: حدثنا عبد الله بن فَيرُوزَ الدَّيلَمي قال: دخلتُ على عبد الله بن عمرو بن العاص وهو في حائطٍ له بالطائف يقال له: الوَهْط، وهو يخاصرُ(2)فتًى من قريش، وذلك الفتى يُزَنُّ بشرب الخمر، فقلت لعبد الله بن عمرو: خِصالٌ تَبلُغني عنك تحدِّث بها عن رسول الله ﷺ: أنه من شرب الخمرَ شَرْبةً، لم تُقبَل توبتُه أربعين صباحًا - فاختَلَجَ الفتى يدَه من يد عبد الله ثم ولَّى - وأنَّ الشقيَّ من شَقِيَ في بطن أُمه، وأنه من خَرَجَ من بيته لا يريد إلّا الصلاةَ ببيت المقدِس، خرج من خطيئته كيومَ وَلَدتْه أمُّه. فقال عبد الله بن عمرو: اللهم إني لا أُحِلُّ لأحدٍ أن يقول عليَّ ما لم أقل، إني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"مَن شربَ الخمرَ شَرْبةً، لم تُقبَلْ توبتُه أربعين صباحًا، فإن تابَ تابَ الله عليه، فإنْ عادَ لم تُقبَلْ توبتُه أربعين صباحًا - فلا أدري في الثالثة أو في الرابعة قال: - فإنْ عادَ كان حقًّا على الله أن يَسقِيَه من رَدْغةِ الخَبَالِ يومَ القيامة". قال: وسمعت رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ الله خلقَ خَلْقَه في ظُلْمةٍ، ثم ألقى عليهم من نُورِه، فمن أصابه من ذلك النُّورِ يومئذٍ شيءٌ فقد اهتدى، ومن أخطأَه ضَلَّ"، فلذلك أقول: جَفَّ القلمُ على عِلْم الله. وسمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ سليمان بن داود سألَ ربَّه ثلاثًا، فأعطاه اثنتين، ونحن نرجو أن يكونَ قد أعطاه الثالثةَ: سأله حُكمًا يُصادِفُ حُكْمَه، فأعطاه إياه، وسأله مُلكًا لا ينبغي لأحدٍ من بعدِه، فأعطاه إياه، وسأله أيُّما رجل يخرجُ من بيته لا يريدُ إلّا الصلاةَ في هذا المسجد، أن يخرجَ من خطيئته كيومَ وَلَدتْه أمُّه، فنحن نرجو أن يكونَ اللهُ قد أعطاه إيَّاه"(1). قال الأوزاعي: حدثني ربيعة بن يزيد بهذا الحديث فيما بين المِقسِلَّاط والباب الصغير(1).هذا حديث صحيح قد تداوَلَه الأئمة، وقد احتجَّا بجميع رواته(2)ثم لم يُخرجاه، ولا أعلمُ له علةً.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 83 - على شرطهما ولا علة له
'Abdullah ibn 'Amr ibn al-'As (may Allah be pleased with them both) narrated three hadiths from the Messenger of Allah (peace be upon him). First: "Whoever drinks wine once, his repentance will not be accepted for forty mornings. If he repents, Allah will accept his repentance. If he returns to it, his repentance will not be accepted for forty mornings" — and the narrator was unsure if it was the third or fourth time he said — "and if he returns again, it becomes Allah's right to make him drink from the mud of khabal (the pus and blood of the people of the Fire) on the Day of Resurrection." Second: "Indeed, Allah created His creation in darkness, then cast upon them from His light. Whoever was touched by that light on that day was guided, and whoever missed it went astray." For this reason, the narrator said: "The Pen has dried upon the knowledge of Allah." Third: "Indeed, Sulayman ibn Dawud (Solomon son of David, peace be upon them) asked his Lord for three things. He was granted two, and we hope he was granted the third: He asked for judgment that would accord with His judgment, and He granted it. He asked for a kingdom that would not belong to anyone after him, and He granted it. And he asked that any man who leaves his home intending only to pray in this mosque (al-Aqsa), would emerge from his sins as on the day his mother bore him — and we hope that Allah granted him that too." Al-Hakim graded it sahih.
عبداللہ بن فیروز دیلمی کہتے ہیں کہ میں طائف میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے ایک باغ میں داخل ہوا جسے«الوهط»کہا جاتا ہے، وہ قریش کے ایک نوجوان کا ہاتھ تھامے (ساتھ ساتھ) چل رہے تھے، اور اس نوجوان پر شراب نوشی کا الزام تھا۔ میں نے عبداللہ بن عمرو سے کہا: مجھے آپ کے حوالے سے کچھ باتیں پہنچی ہیں جو آپ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے بیان کرتے ہیں: یہ کہ جس نے ایک بار شراب پی، اس کی توبہ چالیس صبح تک قبول نہیں ہوتی - (یہ سن کر) اس نوجوان نے اپنا ہاتھ عبداللہ کے ہاتھ سے چھین لیا اور پیٹھ پھیر کر چلا گیا - اور یہ کہ بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ ہی میں بدبخت لکھ دیا گیا، اور یہ کہ جو شخص اپنے گھر سے صرف بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نیت سے نکلے گا، وہ اپنے گناہوں سے ایسے پاک ہو جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو۔ عبداللہ بن عمرو نے (یہ سن کر) کہا: اے اللہ! میں کسی کے لیے یہ حلال نہیں کرتا کہ وہ میری طرف وہ بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی، (اصل بات یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا ہے:”جس نے ایک گھونٹ شراب پی، چالیس صبح تک اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، پھر اگر اس نے توبہ کر لی تو اللہ اسے معاف فرما دے گا، اگر اس نے دوبارہ پی تو چالیس صبح تک توبہ قبول نہیں ہوگی - راوی کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی بار آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: - اگر وہ پھر بھی باز نہ آیا تو اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ اسے قیامت کے دن«ردغة الخبال»(اہل جہنم کا پیپ اور خون) پلائے۔“انہوں نے مزید کہا کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا:”بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا، پھر ان پر اپنے نور کی تجلی فرمائی، پس اس دن جس پر اس نور کا کچھ حصہ پڑ گیا اس نے ہدایت پا لی اور جس سے وہ خطا ہو گیا وہ گمراہ ہو گیا“، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم کے مطابق قلم (تقدیر لکھ کر) خشک ہو چکا ہے۔ اور میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا:”سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں، اللہ نے انہیں دو عطا کر دیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری بھی انہیں عطا کر دی ہو گی: انہوں نے اللہ سے ایسا فیصلہ (کرنے کی قوت) مانگی جو اللہ کے فیصلے کے مطابق ہو، اللہ نے انہیں وہ عطا کر دی، اور انہوں نے ایسی بادشاہی مانگی جو ان کے بعد کسی اور کے لائق نہ ہو، اللہ نے انہیں وہ بھی عطا کر دی، اور انہوں نے یہ دعا کی کہ جو شخص بھی اپنے گھر سے صرف اس مسجد (بیت المقدس) میں نماز پڑھنے کی نیت سے نکلے، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائے جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو، تو ہمیں امید ہے کہ اللہ نے انہیں یہ (تیسری دعا) بھی عطا فرما دی ہوگی۔“امام اوزاعی کہتے ہیں کہ مجھ سے ربیعہ بن یزید نے یہ حدیث (دمشق کے مقام) مقسلاط اور باب صغیر کے درمیان بیان کی تھی۔یہ صحیح حدیث ہے جسے ائمہ نے روایت کیا ہے اور ان تمام راویوں سے (شیخین نے) احتجاج کیا ہے لیکن پھر بھی اسے روایت نہیں کیا، اور میں اس کی کوئی علت نہیں جانتا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 83]