عربی (اصل)
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ وإبراهيم بن عِصْمة العَدْل قالا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني، حدثنا يحيى بن يَمَانٍ، حدثنا سفيان، عن ابن جُرَيج، عن سليمان الأحول، عن طاووس، عن ابن عباس: ﴿فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا﴾[فصلت: 11]، قال للسماء: أَخرِجي شمسَكِ وقمرَكِ ونجومَكِ، وقال للأرض: شَقِّقي أنهارَكِ وأَخرِجي ثمارَكِ، فقالتا: أتيناكَ طائعين(3).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وتفسيرُ الصحابي عندهما مُسنَد(4).[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 73 - على شرطهما
انگریزی ترجمہ
Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with them both) said regarding the verse: "He said to it and to the earth: 'Come willingly or unwillingly'" [Fussilat: 11]: "He said to the heaven: 'Bring forth your sun, your moon, and your stars,' and He said to the earth: 'Split open your rivers and bring forth your fruits.' They both said: 'We come willingly.'" Al-Hakim graded it sahih according to the criteria of both al-Bukhari and Muslim, noting that the interpretation of a Companion has the ruling of a marfu' (raised) hadith according to them.
اردو ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان﴿فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا﴾”اللہ نے آسمان اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں آ جاؤ خوشی سے یا ناپسندیدگی سے“[سورة فصلت: 11]کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: اللہ نے آسمان سے فرمایا کہ اپنا سورج، چاند اور ستارے نکالو، اور زمین سے فرمایا کہ اپنی نہریں جاری کرو اور اپنے پھل نکالو، تو ان دونوں نے عرض کیا: ہم فرمانبردار بن کر حاضر ہیں۔یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی، اور ان کے نزدیک صحابی کی تفسیر مسند (مرفوع) حدیث کے حکم میں ہوتی ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 73]
