عربی (اصل)
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا عُبيد بن شَرِيكَ البزَّار، حدثنا يحيى بن عبد الله بن بُكَير، حدثني الليث بن سعد، عن إبراهيم بن أبي عَبْلة، عن الوليد بن عبد الرحمن، عن جُبير بن نُفَير، أنه قال: حدثني عوفُ بن مالك الأشجعي: أنَّ رسول الله ﷺ نَظَرَ إلى السماء يومًا فقال:"هذا أوانُ أن يُرفَعَ العِلمُ"، فقال له رجل من الأنصار - يقال له: ابن لَبِيد -: يا رسول الله، كيف يُرفَعُ العلمُ وقد أُثبِتَ في الكتب، ووَعَتْه القلوب؟ فقال رسول الله ﷺ:"إن كنتُ لأحسَبُك من أفقَهِ أهل المدينة"، ثم ذكر ضلالةَ اليهود والنصارى على ما في أيديهم من كتاب الله. قال: فلَقِيتُ شَدَّادَ بن أَوْس فحدَّثتُه بحديث عوف بن مالك، فقال: صَدَقَ عوفٌ، ألا أُخبرُك بأوَّل ذلك يُرفَع؟ قلت: بلى، قال: الخشوعُ، حتى لا تَرى خاشعًا(1).هذا حديث صحيح، وقد احتَجَّ الشيخان بجميع رُواتِه(2)، والشاهد لذلك فيه شدَّاد بن أَوْس، فقد سمع جبيرُ بنُ نُفير الحديثَ منهما جميعًا، ومن ثالثٍ من الصحابة وهو أبو الدَّرداء:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 337 - صحيح احتجا برواته
انگریزی ترجمہ
Awf ibn Malik al-Ashja'i narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) looked at the sky one day and said: "This is the time when knowledge will be taken away." A man from the Ansar called Ibn Labid said: "O Messenger of Allah, how can knowledge be taken away when it is recorded in books and preserved in hearts?" The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I used to consider you among the most knowledgeable people of Madinah." Then he mentioned the misguidance of the Jews and Christians despite having the Book of Allah in their hands. The narrator said: Then I met Shaddad ibn Aws and told him the hadith of Awf ibn Malik. He said: "Awf spoke the truth. Shall I tell you what will be taken away first?" I said: "Yes." He said: "Khushu' (humility and reverence), until you will not see a single person with khushu'."
اردو ترجمہ
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک دن آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا:”یہ وہ وقت ہے جب علم اٹھا لیا جائے گا“، تو انصار کے ایک صاحب (جنہیں ابن لبید کہا جاتا ہے) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! علم کیسے اٹھا لیا جائے گا جبکہ وہ کتابوں میں درج ہے اور اسے دلوں نے محفوظ کر رکھا ہے؟ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میرا تو یہ خیال تھا کہ تم اہل مدینہ کے سب سے بڑے فقیہ ہو“، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے یہودیوں اور عیسائیوں کی گمراہی کا تذکرہ فرمایا کہ ان کے پاس اللہ کی کتاب موجود ہونے کے باوجود وہ گمراہ ہوئے۔ (راوی کہتے ہیں کہ) پھر میری ملاقات سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں عوف بن مالک کی حدیث سنائی، انہوں نے کہا: عوف نے سچ کہا، کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو سب سے پہلے اٹھائی جائے گی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؛ انہوں نے کہا: وہ ’خشوع‘ ہے، یہاں تک کہ (ایک وقت آئے گا کہ) تم کوئی ایک خاشع (عاجزی کرنے والا) بھی نہیں دیکھو گے۔یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور اس کے لیے شداد بن اوس والا شاہد موجود ہے، اور جبیر بن نفیر نے ان دونوں اور ایک تیسرے صحابی یعنی ابو الدرداء سے یہ حدیث سنی ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 341]
