عربی (اصل)
حدثنا أبو محمد عبد الله بن جعفر النَّحْوي ببغداد، حدثنا القاسم بن المغيرة الجوهري. وأخبرنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد بن حَبِيب الحافظ؛ قالا: حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا عَبّاد بن العوّام، عن الجُرَيري، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري أنه قال: مَرْحبًا بوصيَّة رسول الله ﷺ، كان رسول الله ﷺ يُوصِينا بكم(4).هذا حديث صحيح ثابت لاتفاق الشيخين على الاحتجاج بسعيد بن سليمان وعبّاد بن العوّام والجُريري، ثم احتجاج مسلم بحديث أبي نَضْرة، فقد عَدَدتُ له في"المسند الصحيح" أحدَ عشرَ أصلًا للجُريري، ولم يُخرجا هذا الحديث الذي هو أول حديث في فضل طلّاب الحديث، ولا يُعلَمُ له علَّة، ولهذا الحديث طرقٌ يجمعُها أهل الحديث عن أبي هارون العَبْدي عن أبي سعيد، وأبو هارون ممّن سَكَتوا عنه(1).[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 298 - على شرط مسلم ولا علة له
انگریزی ترجمہ
Abu Sa'id al-Khudri said (upon seeing students of hadith): "Welcome, in fulfillment of the Messenger of Allah's instruction! The Messenger of Allah (peace be upon him) used to advise us to take care of you." Al-Hakim said: This hadith is sound and established, as the two Shaykhs agreed on using Sa'id ibn Sulayman, Abbad ibn al-Awwam, and al-Jurayri as authorities. This is the first hadith regarding the virtue of students of hadith, and it has no known defect.
اردو ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ (حدیث کے طالب علموں کو دیکھ کر) فرماتے:”رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی وصیت کے مطابق خوش آمدید! رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمہمیں تمہارے بارے میں وصیت فرمایا کرتے تھے۔“یہ حدیث صحیح اور ثابت ہے کیونکہ شیخین نے سعید بن سلیمان، عباد بن عوام اور جریری سے احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے، پھر امام مسلم نے ابونضرہ کی حدیث سے احتجاج کیا ہے، میں نے ان کی”مسند صحیح“میں جریری کے واسطے سے گیارہ اصول شمار کیے ہیں، لیکن انہوں نے اس حدیث کو روایت نہیں کیا جو کہ طلبہِ حدیث کی فضیلت کے بارے میں پہلی حدیث ہے، اور اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی۔ اس حدیث کے کئی طرق ہیں جنہیں محدثین ابوہارون عبدی عن ابی سعید کے واسطے سے جمع کرتے ہیں، اور ابوہارون ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں ائمہ نے سکوت اختیار کیا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 301]
