عربی (اصل)
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم المعدَّل بمَرْو، حدثنا عبد الله بن رَوْح المدائني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يُؤتَى بالموت يومَ القيامة في هيئةِ كبشٍ أملَحَ، فيقال: يا أهلَ الجنة، فيَطَّلِعون خائفينَ وَجِلِينَ مخافةَ أن يُخرَجوا مما هم فيه، فيقال: تعرفون هذا؟ فيقولون: نعم، هذا الموتُ، ثم يقال: يا أهلَ النار، فيَطَّلِعونَ مُستبشِرين فَرِحينَ أن يُخرَجوا ممّا هم فيه، فيقال: أتعرفون هذا؟ فيقولون: نعم، هذا الموتُ، فيأمرُ به فيُذبَح على الصِّراط، فيقال للفريقين: خلودٌ فيما تَجِدُون، لا موتَ فيها أبدًا"(2).هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فإنَّ يزيد بن هارون ثبتٌ وقد أسنده في جميع الروايات عنه، وأَوقَفَه(1)الفضلُ بن موسى السِّيناني وعبدُ الوهاب بن عبد المجيد عن محمد بن عمرو. أما حديثُ الفضل بن موسى:
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "On the Day of Resurrection, Death will be brought in the form of a spotted ram. It will be said: 'O people of Paradise!' — and they will look out, fearful and anxious lest they be taken out of what they are in — and it will be said: 'Do you recognize this?' They will say: 'Yes, this is Death.' Then it will be said: 'O people of the Fire!' — and they will look out, hoping and glad that they might be taken out of what they are in — and it will be said: 'Do you recognize this?' They will say: 'Yes, this is Death.' Then the order will be given and it will be slaughtered. Then it will be said: 'O people of Paradise, eternity with no death! O people of the Fire, eternity with no death!'"
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”قیامت کے دن موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا، پھر پکارا جائے گا: اے جنت والو! پس وہ اس خوف اور ڈر کے ساتھ جھانکیں گے کہ کہیں انہیں وہاں سے نکال نہ دیا جائے، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے؛ پھر پکارا جائے گا: اے جہنم والو! وہ اس خوشی اور امید کے ساتھ جھانکیں گے کہ شاید انہیں اس (عذاب) سے نکال دیا جائے، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے؛ پھر اس کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اسے پل صراط پر ذبح کر دیا جائے گا، اور دونوں گروہوں سے کہہ دیا جائے گا: اب تم جس حال میں ہو اسی میں ہمیشہ رہو گے، اس کے بعد اب کبھی موت نہیں آئے گی۔“یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ یزید بن ہارون ثقہ ہیں اور انہوں نے اپنی تمام روایات میں اسے مرفوعاً بیان کیا ہے، جبکہ فضل بن موسیٰ سینانی اور عبدالوہاب بن عبدالمجید نے اسے محمد بن عمرو سے موقوفاً بیان کیا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 281]
