عربی (اصل)
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان(1)بن حَرْب، حدثنا شُعْبة. وأخبرني أبو عمرو محمد بن جعفرٍ العَدْل، حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا عُبيد الله بن معاذ، حدثنا أبي، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مُرَّة قال: حدثني عبد الله بن الحارث - وأثنى عليه خيرًا - عن أبي كَثير، عن عبد الله بن عمرو قال: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ فقال:"إيّاكم والظُّلمَ، فإنَّ الظُّلمَ ظُلُماتٌ يومَ القيامة، وإيّاكم والفُحْشَ والتفحُّشَ، وإيّاكم والشُّحَّ، فإنما هَلَكَ مَن كان قَبلَكم بالشُّحِّ، أَمَرَهم بالقَطِيعة فقَطَعُوا، وبالبُخْل فبَخِلوا، وبالفجور ففَجَرُوا" فقام رجل فقال: يا رسولَ الله، أيُّ الإسلام أفضلُ؟ قال:"أن يَسلَمَ المسلمون من لسانِك ويدِك"، فقال ذلك الرجل أو غيرُه: يا رسولَ الله، أيُّ الهجرةِ أفضلُ؟ قال:"أنْ تَهجُرَ ما كَرِهَ ربُّك"، قال:"والهِجرةُ هجرتانِ: هجرةُ الحاضر، وهجرةُ البادِي، فهجرةُ البادي: أن يجيبَ إذا دُعِيَ، ويطيعَ إذا أُمِرَ، وهجرةُ الحاضر أعظَمُهما بَلِيَّةً، وأفضلُهما أجرًا"(2). قد خرَّجا جميعًا حديث الشَّعْبي عن عبد الله بن عمرو مختصرًا ولم يُخرجا هذا الحديث، وقد اتَّفقا على عمرو بن مُرَّة وعبد الله بن الحارث النَّجْراني(1)، فأما أبو كَثير زهير بن الأَقمَر الزُّبيدي فإنه سمع عليًّا وعبدَ الله فمَن بعدَهما من الصحابة. وهذا الحديث بعَينِه عند الأعمش عن عمرو بن مُرَّة:
انگریزی ترجمہ
'Abdullah ibn 'Amr (may Allah be pleased with them both) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) gave us a sermon and said: "Beware of injustice, for injustice will be darkness on the Day of Resurrection. Beware of obscenity and indecency. And beware of greed, for it was greed that destroyed those before you — it commanded them to sever family ties and they severed them, it commanded them to be miserly and they were miserly, and it commanded them to commit sins and they committed them." A man stood up and asked: "O Messenger of Allah, which Islam is best?" He said: "That the Muslims be safe from your tongue and your hand." That man or another asked: "O Messenger of Allah, which emigration (hijrah) is best?" He said: "That you abandon what your Lord dislikes." He added: "Emigration is of two kinds: the emigration of the town-dweller and the emigration of the desert-dweller. The desert-dweller's emigration is that he responds when called and obeys when commanded. The town-dweller's emigration is greater in trial and greater in reward."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:”ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کا سبب ہوگا، اور فحش گوئی و بدزبانی سے بچو، اور حرص و بخل سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ حرص و بخل ہی کی وجہ سے ہلاک ہوئے، اسی نے انہیں قطع رحمی کا حکم دیا تو انہوں نے ناطے توڑ لیے، بخل کا حکم دیا تو انہوں نے بخل کیا، اور گناہوں کا حکم دیا تو وہ گناہوں میں پڑ گئے۔“تب ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ کہ (دوسرے) مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں“، پھر اسی شخص یا کسی اور نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ کہ تم اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناپسند ہو“، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے (مزید) فرمایا:”ہجرت دو طرح کی ہے: ایک شہری (مقیم) کی ہجرت اور دوسری دیہاتی (بدوی) کی ہجرت؛ دیہاتی کی ہجرت یہ ہے کہ جب اسے (جہاد کے لیے) پکارا جائے تو جواب دے اور جب حکم دیا جائے تو اطاعت کرے، اور شہری کی ہجرت ان دونوں میں آزمائش کے اعتبار سے زیادہ بڑی اور اجر کے لحاظ سے زیادہ فضیلت والی ہے۔“ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے شعبی عن عبداللہ بن عمرو کی حدیث مختصر طور پر روایت کی ہے لیکن اس حدیث کو روایت نہیں کیا، حالانکہ ان دونوں کا عمرو بن مرہ اور عبداللہ بن حارث نجرانی پر اتفاق ہے، جبکہ ابوکثیر زہیر بن اقمر زبیدی نے سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اور ان کے بعد کے صحابہ سے سماع کیا ہے۔ بعینہ یہی حدیث امام اعمش کے ہاں بھی عمرو بن مرہ کے واسطے سے موجود ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 26]
