عربی (اصل)
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا أحمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن خارجةَ بن زيد بن ثابت قال: قال زيد بن ثابت: أَمَرني رسول الله ﷺ فتعلَّمتُ له كتابةَ اليهود، وقال:"إني والله ما آمَنُ يهودَ على كِتابي"، فتعلَّمتُه، فلم يمُرَّ بي نصفُ شهرٍ حتى حَذَقتُه، قال أَبي: فكنت أكتبُ له إذا كَتَبَ، وأقرأُ له إذا كُتِبَ إليه(3). قد استَشهَدا جميعًا بعبد الرحمن بن أبي الزِّناد. وهذا حديث صحيح، ولا أعرفُ في الرُّخْصة لتعلُّم كتابةِ أهل الكتاب غيرَ هذا الحديث.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 252 - هذا صحيح
انگریزی ترجمہ
Kharijah ibn Zayd ibn Thabit narrated from his father: "The Messenger of Allah (peace be upon him) commanded me, and I learned the writing of the Jews for him. He said: 'By Allah, I do not trust the Jews with my correspondence.' So I learned it, and not half a month had passed before I mastered it. Then I would write for him when he dictated, and read for him when letters were written to him."
اردو ترجمہ
خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: مجھے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے حکم دیا تو میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکے لیے یہودیوں کی تحریر سیکھ لی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا تھا:”اللہ کی قسم! مجھے اپنی خط و کتابت کے معاملے میں یہودیوں پر بھروسہ نہیں ہے“، پس میں نے اسے سیکھ لیا اور ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں اس میں ماہر ہو گیا، وہ کہتے ہیں: پھر جب آپصلی اللہ علیہ وسلمیہودیوں کو خط لکھواتے تو میں لکھتا تھا اور جب ان کی طرف سے خط آتا تو میں آپصلی اللہ علیہ وسلمکو پڑھ کر سناتا تھا۔یہ حدیث صحیح ہے اور مجھے اہلِ کتاب کی تحریر سیکھنے کی رخصت کے بارے میں اس کے علاوہ کوئی اور حدیث معلوم نہیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 254]
