عربی (اصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق البَصري بمصر، حدثنا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَامي، حدثني أبي، أنَّ عِكْرمة بن خالد ابن سعيد بن العاص المخزومي حدَّثه: أنه لَقِيَ عبد الله بن عمر بن الخطَّاب فقال له: يا أبا عبد الرحمن، إنَّا بنو المغيرة قومٌ فينا نَخْوةٌ، فهل سمعت رسول الله ﷺ يقول في ذلك شيئًا؟ فقال عبد الله بن عمر: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ما من رجلٍ يَتعاظَمُ في نفسه ويختالُ في مشيتِه، إلّا لَقِيَ الله وهو عليه غضبانُ"(2).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين(3)، ولم يُخرجاه.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 201 - على شرط مسلم
انگریزی ترجمہ
Ikrimah ibn Khalid ibn Sa'id ibn al-'As al-Makhzumi narrated that he met Abdullah ibn Umar ibn al-Khattab and said to him: "O Abu Abd al-Rahman! We, the Banu al-Mughirah, are a people in whom there is a spirit of pride. Have you heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say anything about this?" Abdullah ibn Umar said: "I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'Any man who sees himself as great in his own eyes and struts in his walk will meet Allah while He is angry with him.'" This hadith is authentic upon the conditions of the two Shaykhs, but they did not include it.
اردو ترجمہ
عکرمہ بن خالد بن سعید بن عاص مخزومی سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی اور ان سے عرض کیا: اے ابو عبدالرحمن! ہم بنو مغیرہ ایک ایسی قوم ہیں جس میں (خاندانی) فخر اور بڑائی کا مادہ پایا جاتا ہے، تو کیا آپ نے اس بارے میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے کچھ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:”جو شخص بھی اپنے دل میں خود کو بڑا سمجھے گا اور اپنی چال ڈھال میں تکبر و فخر اختیار کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر سخت غضبناک ہو گا۔“یہ حدیث شیخین کی شرائط کے مطابق صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 202]
