عربی (اصل)
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَمْرٍ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ فَوَاللَّهِ لأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً " .
انگریزی ترجمہ
Hadrat A'isha reported that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) granted permission for doing a thing, but some persons amongst the people avoided it. This was conveyed to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), and he was so much annoyed that the sign of his anger appeared on his face. He then said:What has happened to the people that they avoid that for which permission has been granted to me? By Allah, I have the best knowledge of Allah amongst them, and fear Him most amongst them
اردو ترجمہ
ابو حضرت معاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ( ابوضحیٰ ) مسلم سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام میں رخصت روا رکھی ۔ لوگوں میں سے کچھ نے خود کوایسا کرنے سے زیادہ پاکباز خیال کیا ۔ یہ بات آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کومعلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو غصہ آیا حتیٰ کہ غصہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور سےظاہر ہوا ۔ پھرآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ لوگوں کا کیا حال ہے کہ جس کام میں مجھے رخصت دی گئی ہے اس سے احتراز کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم میں تو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔
