عربی (اصل)
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا قَالاَ خَرَجَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ هَاجَرَتْ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَقَدِمَتْ قُبَاءً فَنُفِسَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بِقُبَاءٍ ثُمَّ خَرَجَتْ حِينَ نُفِسَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُحَنِّكَهُ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَكَثْنَا سَاعَةً نَلْتَمِسُهَا قَبْلَ أَنْ نَجِدَهَا فَمَضَغَهَا ثُمَّ بَصَقَهَا فِي فِيهِ فَإِنَّ أَوَّلَ شَىْءٍ دَخَلَ بَطْنَهُ لَرِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَتْ أَسْمَاءُ ثُمَّ مَسَحَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ثُمَّ جَاءَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانٍ لِيُبَايِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَهُ بِذَلِكَ الزُّبَيْرُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ رَآهُ مُقْبِلاً إِلَيْهِ ثُمَّ بَايَعَهُ .
انگریزی ترجمہ
Urwa b. Zubair and Hadrat Fatima daughter of Mandhir b. Zubair, reported that Asma' daughter of Hadrat Abu Bakr was at the time of migration in the family way with 'Abdullah b. Zubair (in her womb). She came to Quba' and gave birth to Hadrat 'Abdullah at that place and then sent him to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) so that he should rub his palate with chewed dates. the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (may peace he upon him) took hold of him (the child) and he placed him in his lap and then called for dates. Hadrat 'A'isha said:Some time was spent before we were able to find them. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) chewed them and then put his saliva in his mouth. The first thing that entered his stomach, was the saliva of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him). Asma' said: He then rubbed him and blessed him and gave him the name of Hadrat Abdullah. He (Hadrat 'Abdullah) went to him (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) when he had attained the age of seven or eight years in order to pledge allegiance to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) as Hadrat Zubair had commanded him to do. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) smiled when he saw him coming towards him and then accepted his allegiance
اردو ترجمہ
شعیب بن اسحاق نے کہا؛مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا ، کہا : مجھے عروہ بن حضرت زبیر اور فاطمہ بنت منذر بن حضرت زبیر نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : کہ سیدہ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( مکہ سے ) ہجرت کی نیت سے جس وقت نکلیں ، ان کے پیٹ میں عبداللہ بن حضرت زبیر تھے ( یعنی حاملہ تھیں ) جب وہ قباء میں آ کر اتریں تو وہاں سیدنا عبداللہ بن حضرت زبیر پیدا ہوئے ۔ پھر ولادت کے بعد انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں تاکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کو گھٹی لگائیں ، پس آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سیدہ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے لے لیا اور اپنی گود میں بٹھایا ، پھر ایک کھجور منگوائی ۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم ایک گھڑی تک کھجور ڈھونڈتے رہے ، آخر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کو چبایا ، پھر ( اس کا جوس ) ان کے منہ میں ڈال دیا ۔ یہی پہلی چیز جو عبداللہ کے پیٹ میں پہنچی ، وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا تھوک تھا ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لئے دعا کی اور ان کا نام عبداللہ رکھا ۔ پھر جب وہ سات یا آٹھ برس کے ہوئے تو سیدنا حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اشارے پر وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کے لئے آئے ۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آتے دیکھا تو تبسم فرمایا ۔ پھر ان سے ( برکت کے لئے ) بیعت کی ( کیونکہ وہ کمسن تھے ) ۔
