عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ عَجِلَ شَيْخٌ فَلَطَمَ خَادِمًا لَهُ فَقَالَ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ عَجَزَ عَلَيْكَ إِلاَّ حُرُّ وَجْهِهَا لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ بَنِي مُقَرِّنٍ مَا لَنَا خَادِمٌ إِلاَّ وَاحِدَةٌ لَطَمَهَا أَصْغَرُنَا فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُعْتِقَهَا .
انگریزی ترجمہ
Hilal b. Yasaf reported that a person got angry and slapped his slave-girl. Thereupon Suwaid b. Muqarrin said to him:You could find no other part (to slap) but the prominent part of her face. See I was one of the seven sons of Muqarrin, and we had but only one slave-girl. The youngest of us slapped her, and Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) commanded us to set her free
اردو ترجمہ
ابن ادریس نے ہمیں حصین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ہلال بن یساف سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک بوڑھے نے جلدی کی اور اپنے خادم کو طمانچہ دے مارا ، تو حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے کہا : تمہیں اس کے شریف چہرے کے سوا اور کوئی جگہ نہ ملی؟ میں نے اپنے آپ کو مقرن کے بیٹوں میں سے ساتواں بیٹا پایا ، ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی ، ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اسے طمانچہ مارا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کو آزاد کر دینے کا حکم دیا
