عربی (اصل)
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ، بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَرِضْتُ فَأَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ فَأَبَى . قُلْتُ فَالنِّصْفُ فَأَبَى . قُلْتُ فَالثُّلُثُ قَالَ فَسَكَتَ بَعْدَ الثُّلُثِ . قَالَ فَكَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا .
انگریزی ترجمہ
Mus'ab b. Sa'd reported on the authority of his father. I was ailing. I sent message to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) saying:Permit me to give away my property as I like. He refused. I (again) said: (Permit me) to give away half. He (again refused). I (again said): Then one-third. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) observed silence after (I had asked permission to give away) one-third. He (the narrater) said: It was then that endowment of one-third became permissible
اردو ترجمہ
زہیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سماک بن حرب نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے مصعب بن سعد ( بن ابی وقاص ) نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں بیمار ہوا تو میں نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا ، میں نے عرض کی : مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں ۔ آپ نے انکار فرمایا ، میں نےعرض کی : آدھا مال ( تقسیم کر دوں؟ ) آپ نے انکار فرمایا ، میں نے عرض کی : ایک تہائی؟ کہا : ( میرے ) ایک تہائی ( کہنے ) کے بعد آپ خاموش ہو گئے ۔ ( ایک تہائی کی وصیت سے آپ نے منع نہ فرمایا مگر اس کے بارے میں بھی یہ فرمایا : ایک تہائی بھی بہت ہے ، حدیث : 4215 ، 4214 ) کہا : اس کے بعد ایک تہائی ( کی وصیت ) جائز ٹھہری ۔
