عربی (اصل)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . قَالَ فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالُوا كَذَا وَكَذَا . قَالَ صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِيَّ نَزَلَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ أَرْضٌ بِالْيَمَنِ فَخَاصَمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ " . فَقُلْتُ لاَ . قَالَ " فَيَمِينُهُ " . قُلْتُ إِذًا يَحْلِفُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . فَنَزَلَتْ { إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً} إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
انگریزی ترجمہ
Al-A'mash narrated from Abu Wa'il, from Hadrat Abdullah (ibn Mas'ud, may Allah be well pleased with him), from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), who stated: Whoever takes an oath to appropriate the property of a Muslim — an oath that was demanded by the court — and he is a liar in that oath, he will meet Allah while He is angry with him. (Abu Wa'il) said: At that point Hadrat Ash'ath ibn Qays (may Allah be well pleased with him) entered the gathering and asked: What is Abu Hadrat Abd al-Rahman (Hadrat Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be well pleased with him) narrating to you? The people said: Such-and-such. He said: Abu Hadrat Abd al-Rahman spoke the truth. This verse was revealed regarding my case. There was a dispute between me and another man over a piece of land in Yemen. I brought the dispute to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), who asked: Do you have any evidence? I submitted: No. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Then the decision rests upon his oath. I submitted: Then he will surely take the oath. Thereupon the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Whoever takes an oath to appropriate the property of a Muslim — an oath demanded by the judge — and he is lying in that oath, he will meet Allah while He is angry with him. Then the verse was revealed: 'Indeed those who exchange the covenant of Allah and their oaths for a small price...' to the end of the verse.
اردو ترجمہ
اعمش نے ابو وائل سے، انہوں نے حضرت عبد اللہ (بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے مسلمان کا مال دبانے کے لیے ایسی قسم کھائی جس کے لیے عدالت نے اسے پابند کیا اور وہ اس میں جھوٹا ہے، وہ اللہ کے سامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا۔ انہوں (ابو وائل) نے کہا: اس موقع پر حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ (مجلس میں) داخل ہوئے اور کہا: ابو عبد الرحمٰن (حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ) تمہیں کیا حدیث بیان کر رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: اس اس طرح (بیان کر رہے ہیں۔) انہوں نے کہا: ابو عبد الرحمٰن نے سچ کہا، یہ آیت میرے ہی معاملے میں نازل ہوئی۔ میرے اور ایک آدمی کے درمیان یمن کی ایک زمین کا معاملہ تھا۔ میں اس کے ساتھ جھگڑا نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں لے گیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی دلیل (یا ثبوت) ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو پھر اس کی قسم (پر فیصلہ ہو گا۔) میں نے عرض کیا: تب وہ قسم کھا لے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مسلمان کا مال دبانے کے لیے ایسی قسم کھائی جس کا فیصلہ کرنے والے نے اس سے مطالبہ کیا تھا اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ کے سامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا۔ اس پر یہ آیت اتری: 'بلاشبہ جو لوگ اللہ کے ساتھ کیے گئے وعدے اور اپنی قسموں کا سودا تھوڑی قیمت پر کرتے ہیں.....' آیت کے آخر تک۔
