عربی (اصل)
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، حَدَّثَنَا أَبُو ظِبْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، يُحَدِّثُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلاً مِنْهُمْ فَلَمَّا غَشَيْنَاهُ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . فَكَفَّ عَنْهُ الأَنْصَارِيُّ وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ . قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي " يَا أُسَامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا . قَالَ فَقَالَ " أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . قَالَ فَمَازَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَىَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Husayn (may Allah be well pleased with him) said: Abu Dibyan narrated to us, saying: I heard Hadrat Usamah ibn Zayd ibn Harithah (may Allah be well pleased with them both) narrating that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent us towards the Huraqah of Juhaynah. We attacked the people at dawn and routed them. I and a man of the Ansar caught up with one of their men. When we overcame him, he said 'There is no god but Allah.' The Ansari held back, but I struck him with my spear and killed him. When we returned, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was informed. He stated: O Hadrat Usamah, did you kill him after he said 'There is no god but Allah'? I submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), he was merely seeking to save himself. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Did you kill him after he said 'There is no god but Allah'? He kept repeating it until I wished I had not embraced Islam before that day.
اردو ترجمہ
حصین نے کہا: ہمیں ابو ظبیان نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں جہینہ کی شاخ (یا آبادی) حرقہ کی طرف بھیجا۔ ہم نے ان لوگوں پر صبح کے وقت حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی۔ میں نے اور ایک انصاری صحابی نے ان میں سے ایک شخص کا پیچھا کیا۔ جب ہم نے اسے گھیر لیا تو اس نے کہا: لا الہ الا اللہ۔ انصاری صحابی نے تو اس سے ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اسے اپنے نیزے سے مار کر قتل کر دیا۔ جب ہم واپس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو خبر ملی، آپ نے ارشاد فرمایا: اے اسامہ! کیا تم نے اسے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کیا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو صرف (جان) بچانے کے لیے کہہ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم نے اسے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کیا؟ آپ بار بار یہ فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے خواہش کی کہ کاش میں اس دن سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔
