Hadrat Anas b. Malik is reported as saying:Abu Hadrat Talha was the one among the Ansar of Medina who possessed the largest property and among his property he valued most was his garden known as Bairaha' which was opposite the mosque, and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) often visited it and he drank of its sweet water. When this verse was revealed: "You will never attain righteousness till you give freely of what you love" (iii. 91), Abu Hadrat Talha got up and, going to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), said: Allah says in His Book: "You will never attain righteousness till you give freely of what you love," and the dearest of my property is Bairaha' so I give it as Sadaqa to God from Whom I hope for reward for it and the treasure with Allah; so spend it, Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), on whatever purpose you deem it proper. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Well done! that is a profitable deal, that is a profitable deal. I have heard what you have said, but I think you should spend it on your nearest relatives. So Abu Hadrat Talha distributed it among the nearest relatives and his cousins on his father's side
اردو ترجمہ
اسحاق بن عبداللہ بن ابی حضرت طلحہ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرما رہے تھے : ابو حضرت طلحہ مدینہ میں کسی بھی انصاری سے زیادہ مالدار تھے ، ان کے مال میں سے بیرحاء والا باغ انھیں سب سے زیادہ پسند تھا جو مسجدِ نبوی شریف کے سامنے واقع تھا ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرماتے ۔ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی : "" تم نیکی حاصل نہیں کرسکوگے جب تک ا پنی محبوب چیز ( اللہ کی راہ میں ) خرچ نہ کرو گے ۔ "" ابو حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کی : اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ : تم نیکی حاصل نہیں کرسکو گے حتیٰ کہ ا پنی پسندیدہ چیز ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرو ۔ "" مجھے اپنے اموال میں سے سب سے زیادہ بیرحاء پسند ہے اور وہ اللہ کے لئے صدقہ ہے ، مجھے اس کے اچھے بدلے اور اللہ کے ہاں ذخیرہ ( کے طور پر محفوظ ) ہوجانے کی امید ہے ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ! آپ اسے جہاں چاہیں رکھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "" بہت خوب ، یہ سود مند مال ہے ، یہ نفع بخش مال ہے ، جو تم نے اس کے بارے میں کہا میں نے سن لیا ہے اور میری رائے یہ ہےکہ تم اسے ( اپنے ) قرابت داروں کو دے دو ۔ "" توابو حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اپنے عزیزوں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا ۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (16)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح بخاری
قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ الأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالاً، وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ…
صحیح بخاری
كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ نَخْلاً، وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءٍ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ…
صحیح بخاری
كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ الأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالاً مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُهَا و…
صحیح بخاری
كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالاً مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبُّ مَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَاءَ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُهَا وَيَش…
صحیح بخاری
كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالاً مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبُّ مَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَاءَ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَا…
Hadrat Anas b. Malik is reported as saying:Abu Hadrat Talha was the one among the Ansar of Medina who possessed the largest property and among his property he valued most was his garden known as Bairaha' which was opposite the mosque, and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) often visited it and he drank of its sweet water. When this verse was revealed: "You will never attain righteousness till you give freely of what you love" (iii. 91), Abu Hadrat Talha got up and, going to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), said: Allah says in His Book: "You will never attain righteousness till you give freely of what you love," and the dearest of my property is Bairaha' so I give it as Sadaqa to God from Whom I hope for reward for it and the treasure with Allah; so spend it, Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), on whatever purpose you deem it proper. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Well done! that is a profitable deal, that is a profitable deal. I have heard what you have said, but I think you should spend it on your nearest relatives. So Abu Hadrat Talha distributed it among the nearest relatives and his cousins on his father's side
اسحاق بن عبداللہ بن ابی حضرت طلحہ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرما رہے تھے : ابو حضرت طلحہ مدینہ میں کسی بھی انصاری سے زیادہ مالدار تھے ، ان کے مال میں سے بیرحاء والا باغ انھیں سب سے زیادہ پسند تھا جو مسجدِ نبوی شریف کے سامنے واقع تھا ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرماتے ۔ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی : "" تم نیکی حاصل نہیں کرسکوگے جب تک ا پنی محبوب چیز ( اللہ کی راہ میں ) خرچ نہ کرو گے ۔ "" ابو حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کی : اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ : تم نیکی حاصل نہیں کرسکو گے حتیٰ کہ ا پنی پسندیدہ چیز ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرو ۔ "" مجھے اپنے اموال میں سے سب سے زیادہ بیرحاء پسند ہے اور وہ اللہ کے لئے صدقہ ہے ، مجھے اس کے اچھے بدلے اور اللہ کے ہاں ذخیرہ ( کے طور پر محفوظ ) ہوجانے کی امید ہے ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ! آپ اسے جہاں چاہیں رکھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "" بہت خوب ، یہ سود مند مال ہے ، یہ نفع بخش مال ہے ، جو تم نے اس کے بارے میں کہا میں نے سن لیا ہے اور میری رائے یہ ہےکہ تم اسے ( اپنے ) قرابت داروں کو دے دو ۔ "" توابو حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اپنے عزیزوں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا ۔
كان أبو طلحة رضي الله عنه أكثر الأنصار بالمدينة مالاً من نخل، وكان أحب أمواله إليه بيرحاء، وكانت مستقبلة المسجد، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخلها ويشرب من ماء فيها طيب قال أنس: فلما نزلت هذه الآية: {لن تنال…
كان أبو طلحة أكثر الأنصار بالمدينة مالاً من نخل، وكان أحب أمواله إليه بيرحاء، وكانت مستقبلة المسجد، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخلها، ويشرب من ماء فيها طيب، فلما نزلت هذه الآية: {لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما…