عربی (اصل)
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَثْقَلَ صَلاَةٍ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلاَةُ الْعِشَاءِ وَصَلاَةُ الْفَجْرِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاَةِ فَتُقَامَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لاَ يَشْهَدُونَ الصَّلاَةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ " .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Numayr narrated to us, he said: My father narrated to us, he said: al-A'mash narrated. Also Hadrat Abu Bakr ibn Abi Shaybah and Abu Kurayb narrated — and the wording is theirs — they said: Abu Hadrat Mu'awiyah narrated from al-A'mash, from Abu Salih, from Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him), who submitted: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'The most burdensome prayers for the hypocrites are the Isha prayer and the Fajr prayer. If they were to know what blessings they contain, they would have come to them even though crawling. And I had considered ordering that the prayer be commenced, then commanding a person to lead the people in prayer, then going along with some persons carrying bundles of firewood to those people who do not attend the prayer (in congregation), and burning their houses upon them with fire.'
اردو ترجمہ
ابن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میرے والد نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: اعمش نے حدیث بیان کی۔ نیز حضرت ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا — اور الفاظ انھی دونوں کے ہیں — کہا: ابو حضرت معاویہ نے اعمش سے، انھوں نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''منافقوں کے لیے سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے، اگر ان لوگوں کو پتا چل جائے جو ان میں (خیر و برکت) ہے تو چاہے انھیں گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے، ضرور آئیں۔ اور میں نے سوچا تھا کہ نماز کی اقامت کا حکم دوں، پھر کسی شخص کو کہوں وہ لوگوں کو جماعت کرائے، پھر میں کچھ اشخاص کو ساتھ لے کر، جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں، ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے، پھر ان کے گھروں کو ان پر آگ سے جلا دوں۔''
