عربی (اصل)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلَاتِي فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ عَلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ: (رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي) فَرَدَدْتُهُ خَاسِئًا "
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Huraira reported God’s Messenger as saying, “An ‘ifrit of the jinn escaped yesterday to interrupt my prayer, but God gave me power over him, so I seized him and intended to tie him to one of the pillars of the mosque in order that you might all look at him; but I remembered the supplication of my brother Solomon (upon him be peace), ‘My Lord, give me such a kingdom as will not be fitting for anyone after me’ (Al-Qur’an; 38:35) so I made him clear out.” (Bukhari and Muslim.)
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات جنّات میں سے ایک عفریت نے میری نماز قطع کرنے کے لیے مجھ پر حملہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دیا اور میں نے اسے پکڑ لیا اور ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھ لو، لیکن مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آئی کہ اے میرے رب! مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نہ ملے، تو میں نے اسے رسوا کر کے چھوڑ دیا۔ (متفق علیہ)
