عربی (اصل)
وَعَنْهُ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ فَقَالَ: «خلق الله الْبَريَّة يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ وَخلق الشّجر يَوْم الِاثْنَيْنِ وَخلق الْمَكْرُوه يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ وَآخِرِ سَاعَةٍ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلى اللَّيْل». رَوَاهُ مُسلم
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah reported: The Messenger of Allah (peace be upon him) took me by the hand and said: "Allah created the earth on Saturday, the mountains on Sunday, the trees on Monday, what is disliked on Tuesday, light on Wednesday, animals on Thursday, and Adam after Asr (late afternoon) on Friday — the last creation in the last hour of Friday, between Asr and nightfall." Narrated by Muslim.
اردو ترجمہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:”اللہ نے مٹی (زمین) کو ہفتے کے دن پیدا فرمایا، اتوار کے روز اس میں پہاڑ پیدا فرمائے، پیر کے دن درخت پیدا فرمائے، مکروہ چیزیں منگل کے دن پیدا فرمائیں، بدھ کے روز نور پیدا فرمایا، جمعرات کے روز اس میں چوپائے پھیلائے اور آدم ؑ کو جمعہ کے دن عصر کے بعد مخلوق میں سب سے آخر پر پیدا فرمایا، اور دن کی آخری گھڑی عصر اور شام کے درمیان ہے۔“رواہ مسلم۔[مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5734]
