عربی (اصل)
وَعَن الحسنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُعْرَضُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ: فَأَمَّا عَرْضَتَانِ فَجِدَالٌ وَمَعَاذِيرُ وَأَمَّا الْعَرْضَةُ الثَّالِثَةُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَطِيرُ الصُّحُفُ فِي الْأَيْدِي فَآخِذٌ بِيَمِينِهِ وَآخِذٌ بِشِمَالِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ لَا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أبي هُرَيْرَة
انگریزی ترجمہ
Al-Hasan narrated from Abu Hurayrah who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "People will be presented on the Day of Resurrection three times. As for the first two presentations, there will be arguments and excuses. As for the third presentation, at that time the scrolls (of deeds) will fly into hands — some taking them in their right hands and some in their left." Narrated by Ahmad and al-Tirmidhi, who said: This hadith is not authentic because al-Hasan did not hear from Abu Hurayrah.
اردو ترجمہ
حسن بصری ؒ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”روزِ قیامت لوگ تین بار (اللہ کے حضور) پیش کیے جائیں گے، پہلی دو مرتبہ کی پیشی میں جھگڑا اور معذرت ہو گی اور تیسری پیشی کے وقت ہاتھوں کی طرف اعمال نامے اڑیں گے، چنانچہ کوئی انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑنے والا ہو گا اور کوئی بائیں میں۔“اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث اس وجہ سے صحیح نہیں کہ حسن بصری ؒ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد۔[مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5557]
