عربی (اصل)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ(وَأَنْذِرْ عشيرتك الْأَقْرَبين)دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ: «يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ. يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ من النَّار يَا بني عبد منَاف أَنْقِذُوا أَنفسكُم من النَّار. با بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ. يَا بني عبد الْمطلب أَنْقِذُوا أَنفسكُم من النَّار. يَا فَاطِمَةُ أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا». رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفَى الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ قَالَ: «يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا. وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا»
انگریزی ترجمہ
Mu'awiyah reported: The Messenger of Allah (peace be upon him) came out to a circle of his Companions and said: "What has made you sit here?" They said: "We are sitting remembering Allah and praising Him for having guided us to Islam and blessed us with it." He said: "By Allah, is that all that made you sit here?" They said: "By Allah, nothing made us sit here except that." He said: "I did not ask you to swear because of any suspicion. Rather, Jibril came to me and told me that Allah, Mighty and Majestic, is boasting about you to the angels." Narrated by Muslim.
اردو ترجمہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب یہ آیت:”اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈراؤ۔“نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کو آواز دی، وہ سب جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عام و خاص سبھی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے بنی کعب بن لؤی! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے آزاد کرا لو، اے بنو مرہ بن کعب! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے بنو عبد شمس! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، بنو عبد المطلب! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، فاطمہ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ میں اللہ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا، البتہ جو حق قرابت ہے میں اسے احسان کے ساتھ نبھاؤں گا۔“اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”قریش کی جماعت! اپنی جانوں کو (ایمان کے ساتھ آگ سے) بچاؤ، میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا، بنو عبد مناف! میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا، عباس بن عبد المطلب! میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا، رسول اللہ کی پھوپھی صفیہ! میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا، فاطمہ بنت محمد! میرے مال میں سے جو چاہو لے لو، میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔“رواہ مسلم و البخاری۔[مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5373]
