عربی (اصل)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ وَلَقَدْ رَهَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعًا لَهُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ يَهُودِيٍّ وَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ بُرٍّ وَلَا صَاعُ حَبٍّ وَإِنَّ عِنْدَهُ لَتِسْعُ نِسْوَةٍ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
انگریزی ترجمہ
Hudhayfah reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The angels met the soul of a man from those who came before you and said: 'Did you do any good?' He said: 'I used to order my servants to give respite to the debtor in difficulty and to forgive the solvent debtor.' He said: So Allah forgave him." And in another narration: Allah said: "I am more worthy of that than you. Forgive My servant." Agreed upon.
اردو ترجمہ
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جو کی روٹی اور رنگت بدلی ہوئی چربی لے کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زرہ مدینہ میں ایک یہودی کے پاس گروی تھی، آپ نے اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جَو لیے تھے، اور میں (راوی) نے انس رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا: آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں شام کے وقت نہ ایک صاع گندم ہوتی تھی اور نہ ایک صاع کوئی اور اناج ہوتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں۔ رواہ البخاری۔[مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5239]
