عربی (اصل)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا اسْتِعْفَافًا عَنِ الْمَسْأَلَةِ وَسَعْيًا عَلَى أَهْلِهِ وَتَعَطُّفًا عَلَى جَارِهِ لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَوَجْهُهُ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ. وَمَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا مُكَاثِرًا مفاخرا مرائيا لَقِي الله وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي «الْحِلْية»
انگریزی ترجمہ
A'ishah reported: From the time the Messenger of Allah (peace be upon him) came to Madinah until he passed away, the family of Muhammad (peace be upon him) did not eat their fill of wheat bread for three consecutive nights. Narrated by Muslim.
اردو ترجمہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”جس شخص نے حلال طریقے سے، مانگنے سے بچنے کے لیے، اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کے لیے اور اپنے پڑوسی پر مہربانی کرنے کے لیے دنیا طلب کی تو وہ روز قیامت اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح (چمکتا) ہو گا۔ اور جس شخص نے حلال طریقے سے، مال میں اضافہ کرنے کے لیے، باہم فخر کرنے کے لیے اور ریاکاری کے لیے دنیا طلب کی تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔“اسنادہ ضعیف، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔[مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5207]
