عربی (اصل)
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَخْلَصَ اللَّهُ قلبَه للإِيمان وجعلَ قلبَه سليما ولسانَه صَادِقا وَنَفْسَهُ مُطْمَئِنَّةً وَخَلِيقَتَهُ مُسْتَقِيمَةً وَجَعَلَ أُذُنَهُ مُسْتَمِعَةً وَعَيْنَهُ نَاظِرَةً فَأَمَّا الْأُذُنُ فَقَمِعٌ وَأَمَّا الْعَيْنُ فَمُقِرَّةٌ لِمَا يُوعَى الْقَلْبُ وَقَدْ أَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ قَلْبَهُ وَاعِيًا»رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»
انگریزی ترجمہ
Abdullah ibn Mas'ud reported: The Messenger of Allah (peace be upon him) slept on a reed mat and it left marks on his side. When he woke up, I began rubbing the marks off his side and said: "O Messenger of Allah, why did you not order us to spread something for you over the mat?" He said: "What have I to do with the world? I am in this world like a traveler who seeks shade under a tree, then goes on and leaves it." Narrated by al-Tirmidhi.
اردو ترجمہ
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”اس شخص نے فلاح پائی جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لیے خالص کر دیا، اس کے دل کو (حسد و بغض وغیرہ سے) سلامت رکھا، اس کی زبان کو راست گو بنایا، اس کے نفس کو مطمئن بنایا، اس کی طبیعت کو مستقیم بنایا، اس کے کانوں کو غور سے (حق) سننے والا اور اس کی آنکھ کو (دلائل) دیکھنے والا بنایا، کان اس چیز کے لیے جسے دل محفوظ رکھتا ہے، قیف ہیں اور آنکھ محل قرار و ثبات ہے، اور اس شخص نے فلاح پائی جس نے اپنے دل کو محافظ بنایا۔“اسنادہ ضعیف، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان۔[مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5200]
