عربی (اصل)
وَعَن معاويةَ بن جاهِمةُ أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ. فَقَالَ: «هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟»قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَالْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»
انگریزی ترجمہ
Judhamah bint Wahb al-Asadiyyah reported: I was present with the Messenger of Allah, peace be upon him, when some people asked him about coitus interruptus. The Messenger of Allah said: "That is the hidden burying of children alive." She said: Then the verse "When the female infant buried alive is asked" was recited.
اردو ترجمہ
معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میں جہاد میں شریک ہونے کے لیے آپ سے مشورہ کرنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”کیا تمہاری والدہ ہے؟“اس نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”جاؤ! اس کے پاس رہو، کیونکہ جنت اس کے قدموں کے پاس ہے۔“اسنادہ صحیح، رواہ احمد و النسائی و البیھقی فی شعب الایمان۔[مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4939]
