عربی (اصل)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: «ائْذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ»فَلَمَّا جَلَسَ تَطَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ. فَلَمَّا انْطَلَقَ الرَّجُلُ قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ لَهُ: كَذَا وَكَذَا ثُمَّ تَطَلَّقْتَ فِي وَجْهِهِ وَانْبَسَطْتَ إِلَيْهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَتى عهدتني فحاشا؟؟ إِن شَرّ النَّاس مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ»وَفِي رِوَايَةٍ: «اتِّقَاءَ فُحْشِهِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
انگریزی ترجمہ
Abu Barzah al-Aslami reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said: "O you who have believed with your tongues but faith has not entered your hearts! Do not backbite Muslims and do not seek out their faults, for whoever seeks out the faults of his Muslim brother, Allah will seek out his faults. And whoever has his faults sought out by Allah will be exposed, even if he is in the interior of his house."
اردو ترجمہ
عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”اسے اجازت دے دو اور وہ اپنی قوم کا برا شخص ہے۔“جب وہ بیٹھ گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چہرے پر خوشی کا اظہار فرمایا اور اس کے لیے تبسم فرمایا: جب وہ آدمی چلا گیا تو عائشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ نے اس کے متعلق اس طرح اس طرح کہا، پھر (اس کے آنے پر) آپ نے اپنے چہرے پر خوشی کا اظہار فرمایا اور اس کے لیے تبسم فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”تم نے مجھے کب فحش گو پایا؟ کیونکہ روزِ قیامت اللہ کے ہاں مقام و مرتبہ میں سے بدتر وہ شخص ہو گا جس کے شر سے بچنے کے لیے لوگ اسے چھوڑ دیں۔“ایک دوسری روایت میں ہے:”اس کی فحش گوئی سے بچنے کے لیے۔“متفق علیہ۔[مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4829]
