عربی (اصل)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أَتَانَا أَبُو مُوسَى قَالَ: إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُ بَابَهُ فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ. فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا؟ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَى بَابِكَ ثَلَاثًا فَلم تردَّ عليَّ فَرَجَعْتُ وَقَدْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ». فَقَالَ عُمَرُ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَقُمْتُ مَعَهُ فذهبتُ إِلى عمرَ فشهِدتُ
انگریزی ترجمہ
Abu Sa'id al-Khudri reported: Abu Musa came to us and said: "Umar sent for me, so I went to his door and greeted three times, but he did not respond, so I returned." Umar said: "What prevented you from coming to us?" I said: "I came and greeted at your door three times, but you did not respond, so I returned. The Messenger of Allah, peace be upon him, had said to me: 'When one of you seeks permission three times and is not granted it, he should go back.'" Umar said: "Bring proof of this." Abu Sa'id said: So I stood up with him and went to Umar and testified.
اردو ترجمہ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ابوموسی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے، انہوں نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے پاس بلا بھیجا، میں ان کے دروازے پر آیا اور تین بار سلام کیا، مجھے جواب نہ ملا تو میں لوٹ گیا، انہوں نے (مجھ سے) پوچھا: تمہیں کس چیز نے ہمارے پاس نہ آنے دیا؟ میں نے کہا: میں آیا تھا اور آپ کے دروازے پر تین بار سلام کیا تھا لیکن تم نے مجھے جواب نہ دیا اس لئے میں واپس چلا گیا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا تھا:”جب تم میں سے کوئی تین بار اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جائے۔“عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس پر دلیل پیش کرو۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے ساتھ کھڑا ہوا اور عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر گواہی دی۔ متفق علیہ۔[مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4667]
