عربی (اصل)
وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِشَيْءٍ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلَيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كذبة»
انگریزی ترجمہ
'A’isha told that when God’s messenger was asked by some people about kahins he replied, “They are of no account.” They said, “Messenger of God, they sometimes tell a thing which is true.” He replied, “That is a word pertaining to truth which a jinni snatches and cackles into the ear of his friend as a hen does; then they mix more than a hundred lies with it.” (Bukhari and Muslim.)
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ کچھ بھی نہیں ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کبھی کبھی کوئی بات بتاتے ہیں جو سچ ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ سچی بات ہے جسے جن چھین لیتا ہے اور اپنے ساتھی کے کان میں اس طرح ڈالتا ہے جیسے مرغی قُو قُو کرتی ہے، پھر وہ اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ بخاری و مسلم نے روایت کیا۔
