عربی (اصل)
وَعَن أبي الطُّفَيْل قَالَ: سُئِلَ عَليّ: هَلْ خَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ فَقَالَ: مَا خَصَّنَا بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ إِلَّا مَا فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً فِيهَا: «لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ وَفِي رِوَايَةٍ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abut Tufail said ‘Ali was asked whether God’s messenger had given them* any instruction for themselves alone and replied that he had given them none which did not apply to all the people except what was in the scabbard of his sword. He then drew out a document containing, “God curse him who kills an animal mentioning anyone other than God, and God curse him who steals a landmark!” A version has, “who changes a landmark; God curse him who curses his father; and God curse him who protects an innovator!” *i.e. the members of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)'s family. Muslim transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت ابوطفیل سے روایت ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو کوئی خاص چیز دی؟ فرمایا: ہمیں کوئی ایسی خاص چیز نہیں دی جو عام لوگوں کو نہ دی ہو سوائے اس تلوار کے نیام میں جو کچھ ہے۔ پھر ایک صحیفہ نکالا جس میں تھا: اللہ کی لعنت ہو اس پر جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے، اللہ کی لعنت ہو اس پر جو زمین کے نشان چرائے (ایک روایت میں: بدل دے)، اللہ کی لعنت ہو اس پر جو اپنے والد پر لعنت کرے، اور اللہ کی لعنت ہو اس پر جو کسی بدعتی کو پناہ دے۔ (مسلم)
