عربی (اصل)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سِتَّةَ أَيَّامٍ اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا يُقَالُ لَكَ بَعْدُ» فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ السَّابِعُ قَالَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَعَلَانِيَتِهِ وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ وَلَا تَسْأَلَنَّ أَحَدًا شَيْئًا وَإِنْ سَقَطَ سَوْطُكَ وَلَا تَقْبِضْ أَمَانَةً وَلَا تَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Dharr told that God’s Messenger said to him for six days, “Comprehend, Hadrat Abu Dharr, what will be said to you afterwards.” Then when the seventh day came he said, “I counsel you to observe fear of God both secretly and openly; when you do wrong do a good deed; do not ask anyone for anything, even if your whip falls;* do not accept a trust; and do not give a decision between two people.” Ahmad. * This means that help is to be asked only from God and that one should not ask another human being for even the smallest help.
اردو ترجمہ
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے چھ دن تک مجھ سے فرمایا: اے حضرت ابو ذر! سمجھ لے جو تجھے بعد میں کہا جائے گا۔ پھر جب ساتواں دن آیا تو فرمایا: میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اپنے معاملے میں ظاہر و باطن میں اللہ سے ڈرو، جب برائی کر بیٹھو تو نیکی کرو، کسی سے کچھ نہ مانگو اگرچہ تمہارا کوڑا گر جائے، امانت نہ لو اور دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرو۔ (مسند احمد)
