عربی (اصل)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذا هُوَ بِرَجُل قَائِم فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَقَالُوا: أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلَا يَقْعُدَ وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ وَيَصُومَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn ‘Abbas said:While the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was preaching a man was standing, so he asked about him and was told that he was Abu Isra’il who had taken a vow to stand and not to sit, or go into the shade, or speak, but to fast. Thereupon the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, “Command him to speak, go into the shade, sit and complete his fast.” Bukhari transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا نظر آیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ابواسرائیل ہے، اس نے نذر مانی ہے کہ کھڑا رہے گا، نہ بیٹھے گا، نہ سایے میں آئے گا، نہ بات کرے گا اور روزہ رکھے گا۔ تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اسے کہو بات کرے، سایے میں آئے، بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے۔» بخاری نے اسے روایت کیا۔
