عربی (اصل)
عَن عَائِشَة أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: «الْمَاءُ وَالْمِلْحُ وَالنَّار» قَالَت: قلت: يَا رَسُول الله هَذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ؟ قَالَ: «يَا حميراء أَمن أَعْطَى نَارًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْكَ النَّارُ وَمَنْ أَعْطَى مِلْحًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا طَيَّبَتْ تِلْكَ الْمِلْحُ وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهَا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
انگریزی ترجمہ
‘A’isha said she asked the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) what the thing was which it was unlawful to refuse and he replied that it was water, salt and fire. She said, “Messenger of God, we know about water, but what is the significance of salt and fire?” He replied, “Little rosy one, he who gives fire is as though he had given sadaqa of all that fire cooked ; he who gives salt is as though he had given sadaqa of all that salt freshened ; he who gives a Muslim a drink of water where water is found is as though he had set free a slave; and he who gives a Muslim a drink of water where water is not found is as though he had given him life.” Ibn Majah transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون سی چیز ہے جس سے منع کرنا حلال نہیں؟ فرمایا: پانی، نمک اور آگ۔ عرض کیا: یا رسول اللہ! پانی تو ہم جانتے ہیں، نمک اور آگ کا کیا حال ہے؟ فرمایا: اے حمیراء! جس نے آگ دی تو گویا اس سارے کھانے کا صدقہ دیا جو اس آگ سے پکا۔ جس نے نمک دیا تو گویا اس سارے کھانے کا صدقہ دیا جو اس نمک نے لذیذ بنایا۔ جس نے مسلمان کو پانی پلایا جہاں پانی دستیاب ہو تو گویا ایک غلام آزاد کیا۔ جس نے مسلمان کو پانی پلایا جہاں پانی دستیاب نہ ہو تو گویا اسے زندگی عطا کی۔ (ابن ماجہ)
