عربی (اصل)
عَن عبد الله الصنَابحِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ وَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنفه فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ فَإِذَا غسل يَدَيْهِ خرجت الْخَطَايَا مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ» . رَوَاهُ مَالك وَالنَّسَائِيّ
انگریزی ترجمہ
‘Abdallah as-Sunabihi reported God’s messenger as saying, “When a believer performs ablution, then rinses his mouth, the sins go out from his mouth; when he snuffs up water, the sins go out from his nose; when he washes his face, the sins go out from his face so that they go out from under his eyelashes; when he washes his hands, the sins go out from his hands so that they go out from under his fingernails; when he wipes his head, the sins go out from his head so that they go out from his ears; and when he washes his feet, the sins go out from his feet so that they go out from under his toenails. Then his walking to the mosque and his prayer will provide extra blessings for him.” Malik and Nasa’i transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ صنابحی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب مومن وضو کرتا ہے تو جب کلی کرتا ہے تو منہ سے گناہ نکل جاتے ہیں، جب ناک میں پانی ڈالتا ہے تو ناک سے گناہ نکل جاتے ہیں، جب منہ دھوتا ہے تو منہ سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ پلکوں کے نیچے سے بھی، جب ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھوں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی، جب سر کا مسح کرتا ہے تو سر سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ کانوں سے بھی، جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی۔ پھر مسجد تک چلنا اور نماز اس کے لیے زائد اجر ہے۔ (مالک، نسائی، ابن ماجہ)
