عربی (اصل)
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ؟ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ؟ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذهبِ والوَرِقِ؟ وخيرٍ لكم مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «ذِكْرُ اللَّهِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّ مَالِكًا وَقفه على أبي الدَّرْدَاء
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abud Darda’ reported the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) as saying, “Would you like me to tell you the best and purest of your deeds in the estimation of your King, those which raise your degrees highest, those which are better for you than spending gold and silver, and are better for you than that you should meet your enemy and cut off one another's head?” On receiving a reply in the affirmative he said, “It is remembering God.” Malik, Ahmad, Tirmidhi and Ibn Majah transmitted it, but Malik traced it no farther back than Abud Darda’.
اردو ترجمہ
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے بہترین اعمال نہ بتاؤں جو تمہارے مالک کے نزدیک سب سے پاکیزہ ہیں، تمہارے درجات میں سب سے بلند ہیں، سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہیں اور اس سے بھی بہتر ہیں کہ تم دشمن سے ملو اور ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں ماریں؟ صحابہ نے عرض کیا: ضرور بتائیے۔ فرمایا: اللہ کا ذکر۔ (مالک، احمد، ترمذی و ابن ماجہ، مگر مالک نے اسے حضرت ابو الدرداء پر موقوف رکھا)
