عربی (اصل)
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا يَوْمَهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ؟ أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ؟ أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتَّى يطلع الْفجْر ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه
انگریزی ترجمہ
Hadrat ‘Ali reported God’s Messenger as saying, “When the middle night of Sha'ban comes, spend the night in prayer and fast during the day, for in it God most high comes down at sunset to the lowest heaven and says, ‘Is there no one who asks forgiveness so that I may forgive him ? Is there no one who asks provision so that I may provide him? Is there no one afflicted so that I may relieve him? Is there not such and such? Is there not such and such?’ till the dawn comes.” Ibn Majah transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب شعبان کی پندرھویں رات آئے تو رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات غروبِ آفتاب کے وقت آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے: کیا کوئی مغفرت مانگنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ کیا کوئی رزق مانگنے والا ہے کہ میں اسے رزق دوں؟ کیا کوئی مصیبت زدہ ہے کہ میں اسے عافیت دوں؟ کیا کوئی ایسا ہے، کیا کوئی ایسا ہے؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جائے۔ (ابن ماجہ)
