عربی (اصل)
وَعَن أبي مَالك الْأَشْجَعِيّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ إِنَّكَ قَدْ صليت خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بكر وَعمر وَعُثْمَان وَعلي هَهُنَا بِالْكُوفَةِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ أَكَانُوا يَقْنُتُونَ؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْن مَاجَه
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Malik al-Ashja‘i said:I said to my father, “Father, you have prayed behind God’s Messenger, Hadrat Abu Bakr, ‘Umar and Hadrat 'Uthman, and behind Ali here in al-Kufa for about five years. Did they stand in humble supplication?” He replied, “Sonny, it is an innovation.” Tirmidhi, Nasa’i and Ibn Majah transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت ابو مالک اشجعی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے عرض کیا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ہے، اور یہاں کوفے میں حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے پیچھے تقریباً پانچ سال تک نماز پڑھی۔ کیا ان میں سے کسی نے قنوت پڑھی؟ انہوں نے فرمایا: بیٹا! یہ (نماز میں قنوت) نئی بات ہے (یعنی مسلسل قنوت نازلہ نہیں پڑھی جاتی تھی)۔ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
