عربی (اصل)
و حَدَّثَنِي مَالِك عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ أَنَّ رَقِيقًا لِحَاطِبٍ سَرَقُوا نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَانْتَحَرُوهَا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَمَرَ عُمَرُ كَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَرَاكَ تُجِيعُهُمْ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَأُغَرِّمَنَّكَ غُرْمًا يَشُقُّ عَلَيْكَ ثُمَّ قَالَ لِلْمُزَنِيِّ كَمْ ثَمَنُ نَاقَتِكَ فَقَالَ الْمُزَنِيُّ قَدْ كُنْتُ وَاللَّهِ أَمْنَعُهَا مِنْ أَرْبَعِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَقَالَ عُمَرُ أَعْطِهِ ثَمَانَ مِائَةِ دِرْهَمٍ.
انگریزی ترجمہ
Malik said that if a slave-girl, who was the wife of a slave, was set free before he had consummated the marriage, and she chose herself, then she had no bride-price and it was a pronouncement of divorce. That was what was done among them.
اردو ترجمہ
حضرت یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ حاطب کے غلاموں نے مزینہ قبیلے کے ایک شخص کی اونٹنی چرائی اور ذبح کر دی۔ معاملہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے پیش ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کثیر بن صلت کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ کاٹے جائیں۔ پھر فرمایا: مجھے لگتا ہے تو انہیں بھوکا رکھتا ہے۔ پھر فرمایا: اللہ کی قسم! میں تجھ پر ایسا تاوان لگاؤں گا جو تجھ پر بھاری ہوگا۔ پھر مزنی سے فرمایا: تمہاری اونٹنی کی قیمت کیا ہے؟ مزنی نے کہا: چار سو درہم۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اسے آٹھ سو درہم دو۔
