عربی (اصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَبِهَا جُنُونٌ أَوْ جُذَامٌ أَوْ بَرَصٌ فَمَسَّهَا فَلَهَا صَدَاقُهَا كَامِلاً وَذَلِكَ لِزَوْجِهَا غُرْمٌ عَلَى وَلِيِّهَا . قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ غُرْمًا عَلَى وَلِيِّهَا لِزَوْجِهَا إِذَا كَانَ وَلِيُّهَا الَّذِي أَنْكَحَهَا هُوَ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ مَنْ يُرَى أَنَّهُ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهَا فَأَمَّا إِذَا كَانَ وَلِيُّهَا الَّذِي أَنْكَحَهَا ابْنَ عَمٍّ أَوْ مَوْلًى أَوْ مِنَ الْعَشِيرَةِ مِمَّنْ يُرَى أَنَّهُ لاَ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهَا فَلَيْسَ عَلَيْهِ غُرْمٌ وَتَرُدُّ تِلْكَ الْمَرْأَةُ مَا أَخَذَتْهُ مِنْ صَدَاقِهَا وَيَتْرُكُ لَهَا قَدْرَ مَا تُسْتَحَلُّ بِهِ .
انگریزی ترجمہ
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab had said that Umar ibn al-Khattab said, "If a man marries a woman who is insane, or has leprosy or white leprosy, without being told of her condition by her guardian, and he has sexual relations with her, she keeps her bride-price in its entirety. Her husband has damages against her guardian." Malik said, "The husband has damages against her guardian when the guardian is her father, brother, or one who is deemed to have knowledge of her condition. If the guardian who gives her in marriage is a nephew, a mawla or a member of her tribe who is not deemed to have knowledge of her condition, there are no damages against him, and the woman returns what she has taken of her bride-price, and the husband leaves her whatever amount is thought to be fair."
اردو ترجمہ
سعید بن مسیب نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا کہ جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اس کو جنوں یا جذام یا برص ہو اور خاوند نہ جان کر اس سے جماع کرے اس عورت کو خاوند پورا مہرے دے اور اس کے ولی سے پھیر لے ۔ کہا مالک نے ولی کو مہر اس صورت میں واپس دینا ہوگا جب وہ عورت کا باپ یا بھائی یا ایسا قریب ہو کہ عورت کا حال جانتا ہو اور جو ولی محرم نہ ہو جیسے چچا کا بیٹا یا مولیٰ یا اور کوئی کنبے والا ہو جس کو عورت کا حال معلوم نہ ہو تو اس پر مہر پھیرنا لازم نہ ہوگا بلکہ اس عورت سے مہر پھیر لیا جائے گا صرف اس قدر چھوڑ دیا جائے گا جس سے اس کی فرج حلال ہو ۔
