عربی (اصل)
98 صحيح حديث أَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هذِهِ قَالَ قُلْتُ اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: فَإِنَّهَا تَذْهَبُ تَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيل لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا ثُمَّ قَرَأَ(ذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا)
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever gives in charity the equivalent of a date from lawful earnings — and Allah accepts only what is lawful — Allah takes it in His right hand and nurtures it for its owner, just as one of you raises his foal, until it becomes like a mountain."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمبیٹھے ہوئے تھے، پھر جب سورج غروب ہوا تو آپ نے فرمایا:”اے ابوذر! کیا تمہیں معلوم ہے یہ کہاں جاتا ہے؟“بیان کیا کہ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں، فرمایا:”یہ جاتا ہے اور سجدے کی اجازت چاہتا ہے، پھر اسے اجازت دی جاتی ہے اور گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ واپس وہاں جاؤ جہاں سے آئے ہو۔ چنانچہ وہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:﴿ذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا﴾[سورة يس: 38]۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 98]
