عربی (اصل)
970 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ تَلَقَّوُا الرُّكْبَانَ وَلاَ يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلاَ تَنَاجَشُوا وَلاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلاَ تُصَرُّوا الْغَنَمَ وَمَنِ ابْتَاعَهَا فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْتَلِبَهَا؛ إِنْ رَضِيهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Do not meet the riders on the way (to buy their goods before they reach the market). Do not let a city dweller sell on behalf of a desert dweller. Do not practice najash (false bidding). No man should outbid his brother, and no woman should ask for the divorce of her sister (co-wife) in order to take her place."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”(تجارتی) قافلوں کی پیشوائی (ان کا سامان شہر پہنچنے سے پہلے ہی خرید لینے کی غرض سے) نہ کرو، ایک شخص کسی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے، اور کوئی نجش نہ کرے، اور کوئی شہری بدوی کا مال نہ بیچے، اور بکری کے تھن میں دودھ نہ روکے، لیکن اگر کوئی اس (آخری) صورت میں جانور خرید لے تو اسے دوہنے کے بعد دونوں طرح کے اختیارات ہیں؛ اگر وہ اس بیع پر راضی ہے تو جانور کو روک سکتا ہے، اور اگر وہ راضی نہیں تو ایک صاع کھجور اس کے ساتھ دے کر اسے واپس کر دے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 970]
