عربی (اصل)
952 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَسَأَلَ عَاصِمٌ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ، جَاءَ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَاصِمٌ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْئَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاس فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا قَالَ سَهْلٌ: فَتَلاَعَنَا، وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا؛ فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا، قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
انگریزی ترجمہ
Sahl ibn Sa'd al-Sa'idi (may Allah be pleased with him) narrated that Uwaymir al-Ajlani came to Asim ibn Adiyy al-Ansari and said: "O Asim, what do you think — if a man finds another man with his wife, should he kill him and then you kill him (in retaliation), or what should he do? Ask the Messenger of Allah (peace be upon him) about this for me." Asim asked the Prophet, but the Prophet disliked those questions and rebuked them. When Asim returned, Uwaymir came and insisted on going to the Prophet himself. The Prophet said: "Allah has revealed concerning you and your wife. Go and bring her." Sahl said: They performed li'an (mutual cursing), and I was among the people in the presence of the Messenger of Allah. When they finished, Uwaymir said: "I would be lying about her, O Messenger of Allah, if I kept her." So he divorced her three times before the Messenger of Allah commanded him to do so.
اردو ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ، عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ اے عاصم! تمہارا کیا خیال ہے اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر کو دیکھے تو کیا اسے وہ قتل کر سکتا ہے؟ اور کیا پھر تم قصاص میں اسے (شوہر کو) بھی قتل کر دو گے یا پھر وہ کیا کرے؟ عاصم! میرے لیے یہ مسئلہ آپ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے پوچھ دیجیے، سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے جب نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمسے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے ان سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس سلسلے میں آپ کے کلمات سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ پر گراں گزرے، اور جب وہ واپس اپنے گھر آ گئے تو سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے آ کر ان سے پوچھا کہ بتائیے آپ سے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے کیا فرمایا؟ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا: تم نے مجھ کو آفت میں ڈالا، جو سوال تم نے پوچھا تھا وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو ناگوار گزرا، سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں یہ مسئلہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے پوچھے بغیر باز نہیں آؤں گا، چنانچہ وہ روانہ ہوئے اور نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں پہنچے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلملوگوں کے درمیان تشریف رکھتے تھے، سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر کو پا لیتا ہے تو آپ کا کیا خیال ہے کیا وہ اسے قتل کر دے؟ لیکن اس صورت میں آپ اسے قتل کر دیں گے یا پھر اسے کیا کرنا چاہیے؟ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیوی کے بارے میں وحی نازل کی ہے، اس لیے تم جاؤ اور اپنی بیوی کو بھی ساتھ لاؤ۔“سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر دونوں (میاں بیوی) نے لعان کیا، لوگوں کے ساتھ میں بھی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ اس وقت موجود تھا، لعان سے جب دونوں فارغ ہوئے تو سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اس کے بعد بھی میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (اس کا مطلب یہ ہو گا کہ) میں جھوٹا ہوں، چنانچہ انہوں نے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکے حکم سے پہلے ہی اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللعان/حدیث: 952]
