عربی (اصل)
832 صحيح حديث عَائِشَةَ أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ، إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ؛ أَنَا فَتَلْتُ قَلاَئِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِيَدَيْهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي، فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَيْءٌ أَحَلَّهُ اللهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْيُ
انگریزی ترجمہ
Narrated Aishah (may Allah be pleased with her): Ziyad ibn Abi Sufyan wrote to Aishah that Abdullah ibn Abbas said: "Whoever sends a sacrificial animal, whatever becomes unlawful for the pilgrim becomes unlawful for him until his animal is slaughtered." Aishah said: "It is not as Ibn Abbas said. I twisted the garlands of the sacrificial animal of the Messenger of Allah (peace be upon him) with my own hands. Then the Messenger of Allah (peace be upon him) garlanded them with his own hands and sent them with my father (Abu Bakr). Nothing that Allah had made lawful for the Messenger of Allah (peace be upon him) became unlawful for him until the animal was slaughtered."
اردو ترجمہ
زیاد بن ابی سفیان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو لکھا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ جس نے ہدی بھیج دی اس پر وہ تمام چیزیں حرام ہو جاتی ہیں جو ایک حاجی پر حرام ہوتی ہیں تا آنکہ اس کی ہدی کی قربانی کر دی جائے، اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جو کچھ کہا مسئلہ اس طرح نہیں ہے، میں نے خود نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے قربانی کے جانوروں کے قلادے اپنے ہاتھوں سے بٹے ہیں، پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے ہاتھوں سے ان جانوروں کو قلادہ پہنایا اور میرے والد محترم کے ساتھ انہیں بھیج دیا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 832]
