عربی (اصل)
718 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ، فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ، فَقَالَ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلاَ تُفْطِرُ وَتُصَلِّي؛ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ وَأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَظًّا قَالَ: إِنِّي لأَقْوَى لِذلِكَ قَالَ: فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ: وَكَيْفَ[ص:23]قَالَ: كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى قَالَ: مَنْ لِي بِهذِهِ، يَا نَبِيَّ اللهِ قَالَ عَطَاءٌ(أَحَد الرُّوَاة): لاَ أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الأَبَدِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ مَرَّتَيْنِ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abdullah ibn Amr: It reached the Prophet (peace be upon him) that I was fasting continuously and praying all night. He sent for me or I met him, and he said: "Have I not been told that you fast and do not break your fast, and pray and do not sleep? Fast and break your fast, pray and sleep, for your eyes have a right over you, your body has a right over you, and your wife has a right over you."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو معلوم ہوا کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں اور ساری رات عبادت کرتا ہوں، اب یا نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے کسی کو میرے پاس بھیجا یا خود میں نے آپ سے ملاقات کی، آپ نے دریافت فرمایا:”کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تو متواتر روزے رکھتا ہے اور ایک بھی نہیں چھوڑتا اور (رات بھر) نماز پڑھتا رہتا ہے؟ روزہ بھی رکھ اور بے روزہ کے بھی رہ، عبادت بھی کر اور سو بھی، کیونکہ تیری آنکھ کا بھی تجھ پر حق ہے، تیری جان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔“سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پھر داؤد علیہ السلام کی طرح روزہ رکھا کر۔“انہوں نے کہا: اور وہ کس طرح؟ فرمایا:”داؤد علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کرتے تھے، جب دشمن سے مقابلہ ہوتا تو پیٹھ نہیں پھیرتے تھے۔“اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میرے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں پیٹھ پھیر جاؤں؟ سیدنا عطا (راویِ حدیث) نے کہا کہ مجھے یاد نہیں (اس حدیث میں) صومِ دہر کا کس طرح ذکر ہوا (البتہ انہیں اتنا یاد تھا کہ) نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جو صومِ دہر رکھتا ہے اس کا روزہ ہی نہیں“، دو مرتبہ (آپصلی اللہ علیہ وسلمنے یہی فرمایا)۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 718]
