عربی (اصل)
678 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ الأَخِرَ[ص:12]وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً قَالَ: لاَ، قَالَ: فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتابِعَيْنِ قَالَ: لاَ قَالَ: أَفَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ بِهِ سِتِّينَ مِسْكِينًا قَالَ: لاَ قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، وَهُوَ الزَّبِيلُ، قَالَ: أَطْعِمْ هذَا عَنْكَ قَالَ: عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا مَا بَيْنَ لاَبَتَيْها أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا قَالَ: فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Hurairah: A man came to the Prophet (peace be upon him) and said: "I am ruined, O Messenger of Allah!" He said: "What has ruined you?" He said: "I had intercourse with my wife during Ramadan." He said: "Can you free a slave?" He said: "No." He said: "Can you fast two consecutive months?" He said: "No." He said: "Can you feed sixty poor people?" He said: "No." Then the Prophet (peace be upon him) sat down. A basket of dates was brought to him, and he said: "Give this in charity." The man said: "To someone poorer than us? There is no family between its two lava fields more in need than us." The Prophet (peace be upon him) laughed until his premolars were visible, then said: "Go and feed your family with it."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یہ رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”کیا تمہارے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ ایک غلام آزاد کر سکو؟“اس نے کہا کہ نہیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پھر دریافت فرمایا:”کیا تم پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟“اس نے کہا کہ نہیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پھر دریافت فرمایا:”کیا تمہارے اندر اتنی قوت ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکو؟“اب بھی اس کا جواب نفی میں تھا، راوی نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں ایک تھیلا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں («الْعَرَقُ»زنبیل کو کہتے ہیں)، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اسے لے جا اور اپنی طرف سے (محتاجوں کو) کھلا دے۔“اس شخص نے کہا: میں اپنے سے بھی زیادہ محتاج کو (کھلاؤں)؟ حالانکہ دو میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پھر جا اپنے گھر والوں کو ہی کھلا دے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 678]
