عربی (اصل)
671 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: نَهى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ، فَقَالَ لَهُ رَجلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقَينِ فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ؛ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رَأَوُا الْهِلاَلَ فَقَالَ: لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (peace be upon him) forbade al-wisal. The Muslims said: "But you practice wisal, O Messenger of Allah." He said: "Which of you is like me? I am given food and drink by my Lord at night." When they refused to stop, he fasted continuously with them for a day and then another day, then they saw the new moon. He said: "If the moon had been delayed, I would have continued further with you" — as a reprimand to them.
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے مسلسل (کئی دن تک سحری و افطاری کے بغیر) روزہ رکھنے سے منع فرمایا تھا، اس پر مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میری طرح تم میں سے کون ہے؟ مجھے تو رات میں میرا رب کھلاتا ہے اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔“لوگ اس پر بھی جب صومِ وصال رکھنے سے نہ رکے تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کے ساتھ دو دن تک وصال کیا، پھر عید کا چاند نکل آیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور کئی دن وصال کرتا۔“گویا جب صومِ وصال سے وہ لوگ نہ رکے تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کو سزا دینے کے لیے یہ کہا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 671]
