عربی (اصل)
664 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ أَوْ يُنَادِي بِلَيْلٍ لِيَرْجِعَ قَائمَكُمْ وَلِيُنَبِّهَ نَائمَكُمْ، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَقُولَ الْفَجْرُ أَوِ الصُّبْحُ وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ وَرَفَعَهَا إِلَى فَوْقُ وَطَأْطأَ إِلَى أَسْفَلُ حَتَّى يَقولَ هكَذَا
انگریزی ترجمہ
Narrated Abdullah ibn Mas'ud, from the Prophet (peace be upon him): "Let not Bilal's adhan prevent any of you from his suhoor (pre-dawn meal), for he calls the adhan — or calls — during the night, so that those who are praying may return and those who are sleeping may be awakened."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روک دے کیونکہ وہ رات رہے سے اذان دیتے ہیں یا (یہ کہا کہ) پکارتے ہیں تاکہ جو لوگ عبادت کے لیے جاگے ہیں وہ آرام کرنے کے لیے لوٹ جائیں اور جو ابھی سوئے ہوئے ہیں وہ ہوشیار ہو جائیں، کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ فجر یا صبح صادق ہو گئی“، اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی انگلیوں کے اشارے سے (طلوع صبح کی کیفیت) بتائی، انگلیوں کو اوپر کی طرف اٹھایا اور پھر آہستہ سے انہیں نیچے لائے اور پھر فرمایا:”اس طرح (فجر ہوتی ہے)۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 664]
