عربی (اصل)
625 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَكْثَرَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللهُ لَكُمْ مِنْ بَرَكَاتِ الأَرْضِ قِيلَ: وَمَا بَرَكَات الأَرْضِ قَالَ: زَهْرَة الدُّنْيَا فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: هَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَصَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يُنْزَلُ علَيْهِ، ثُمَّ جَعَلَ يَمْسَحُ عَنْ جَبِينِهِ، فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ قَالَ: أَنَا قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لَقَدْ حَمِدْنَاهُ حِينَ طَلَعَ ذلِكَ، قَال: لاَ يَأْتِي الْخَيْرُ إِلاَّ بِالْخَيْرِ، إِنَّ هذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَإِنَّ كُلَّ مَا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ، إِلاَّ آكِلَةَ الْخَضِرَةِ، أَكَلَتْ، حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتِ الشَمْسَ فَاجْتَرَّتْ وَثَلَطَتْ وَبَالَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ؛ وَإِنَّ هذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ، مَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ، وَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ؛ وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Sa'id: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "What I fear most for you is what Allah will bring forth for you of the blessings of the earth." They said: "What are the blessings of the earth?" He said: "The adornments of this world."
اردو ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں تمہارے متعلق سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ زمین کی برکتیں تمہارے لیے نکال دے گا۔“پوچھا گیا: زمین کی برکتیں کیا ہیں؟ فرمایا:”دنیا کی چمک دمک۔“اس پر ایک صحابی نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے پوچھا: کیا بھلائی سے برائی پیدا ہو سکتی ہے؟ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماس پر خاموش ہو گئے اور ہم نے خیال کیا کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے، اس کے بعد آپ اپنی پیشانی کو صاف کرنے لگے اور دریافت فرمایا:”پوچھنے والے کہاں ہیں؟“پوچھنے والے نے کہا کہ حاضر ہوں، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب اس سوال کا حل ہمارے سامنے آ گیا تو ہم نے ان صاحب کی تعریف کی، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بھلائی سے تو صرف بھلائی ہی پیدا ہوتی ہے، لیکن یہ مال سرسبز اور خوشگوار (گھاس کی طرح) ہے اور جو چیزیں بھی ربیع کے موسم میں اگتی ہیں وہ حرص کے ساتھ کھانے والوں کو ہلاک کر دیتی ہیں یا ہلاکت کے قریب پہنچا دیتی ہیں، سوائے اس جانور کے جو پیٹ بھر کے کھائے کہ جب اس نے کھا لیا اور اس کی دونوں کوکھ بھر گئیں تو اس نے سورج کی طرف منہ کر کے جگالی کر لی اور پھر پاخانہ پیشاب کر دیا اور اس کے بعد پھر لوٹ کے کھا لیا اور یہ مال بھی بہت شیریں ہے، جس نے اسے حق کے ساتھ لیا اور حق میں خرچ کیا تو وہ بہترین ذریعہ ہے اور جس نے اسے ناجائز طریقے سے حاصل کیا تو وہ اس شخص جیسا ہے جو کھاتا جاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 625]
