عربی (اصل)
554 صحيح حديث أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ: مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَراحٌ مِنْهُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ قَالَ: الْعَبْدُ الْمُؤمِنُ يَسْتَريحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللهِ، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَريحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلاَدُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ
انگریزی ترجمہ
Umm Atiyyah al-Ansariyyah (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) came to us when his daughter died and said: "Wash her three times or five times or more than that, if you see fit, with water and lotus leaves, and put camphor — or a little camphor — in the last wash. When you finish, inform me." When we finished, we informed him and he gave us his waist-wrap and said: "Wrap her in this."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوقتادہ بن ربعی انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے قریب سے لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اسے آرام مل گیا یا اس سے آرام مل گیا“۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ!«مُسْتَرِيحٌ»اور«مُسْتَرَاحٌ مِنْهُ»کا کیا مطلب ہے؟ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مومن بندہ دنیا کی مشقتوں اور تکلیفوں سے اللہ کی رحمت میں نجات پا جاتا ہے، وہ«مُسْتَرِيحٌ»ہے اور«مُسْتَرَاحٌ مِنْهُ»وہ ہے کہ فاجر بندے سے اللہ کے بندے، شہر، درخت اور چوپائے سب آرام پا جاتے ہیں“۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 554]
