عربی (اصل)
537 صحيح حديث عَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ فَقَالَتْ: وَهَلَ ابْنُ عُمَرَ رَحِمَهُ اللهُ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ وَذَنْبِهِ، وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ الآنَ قَالَتْ: وَذَاكَ مِثْلُ قَوْلِهِ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْقَلِيبِ وَفيهِ قَتْلَى بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكينَ، فَقَالَ لَهُمْ مَا قَالَ: إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ إِنَّمَا قَالَ: إِنَّهُمُ الآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌ ثُمَّ قَرَأَتْ(إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى)وَ(وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ)يَقُولُ حينَ تَبَوَّءُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that a black woman (or a young man) used to sweep the mosque. The Messenger of Allah (peace be upon him) missed her (or him) and asked about her (or him). They told him that she (or he) had died. He said: "Why did you not inform me?" It was as if they had considered her (or his) matter insignificant. He said: "Show me her (or his) grave." They showed him, and he prayed over her (or him). Then he said: "Indeed, these graves are filled with darkness for their inhabitants. Allah illuminates them for them by my prayer over them."
اردو ترجمہ
عروہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کسی نے اس کا ذکر کیا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ”میت کو قبر میں اس کے گھر والوں کے اس پر رونے سے بھی عذاب ہوتا ہے“، اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے تو یہ فرمایا تھا کہ”میت پر عذاب اس کی بد عملیوں اور گناہوں کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس کے گھر والے ہیں کہ اب بھی اس کی جدائی میں روتے رہتے ہیں“، انہوں نے کہا کہ اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے بدر کے اس کنویں پر کھڑے ہو کر جس میں مشرکین کی لاشیں ڈال دی گئی تھیں ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ”جو کچھ میں کہہ رہا ہوں یہ اسے سن رہے ہیں“، تو آپ کے فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ اب انہیں معلوم ہو گیا ہو گا کہ ان سے میں جو کچھ کہا کرتا تھا وہ حق تھا، پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی کہ﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ﴾[سورة النمل: 80]”آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے“اور﴿وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ﴾[سورة فاطر: 22]”اور جو لوگ قبروں میں دفن ہو چکے ہیں انہیں آپ اپنی بات نہیں سنا سکتے“، عروہ کہتے ہیں: (آپ ان مردوں کو نہیں سنا سکتے) جو اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا چکے ہیں۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 537]
