عربی (اصل)
405 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: إِذَا قُلْتَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ فَلاَ تَقُلْ حَيَّ عَلَى الصَّلاَةِ، قُلْ صَلُّوا فِي بُيوتِكُمْ فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا، قَالَ: فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُحْرِجَكُمْ فَتَمْشُونَ فِي الطِّينِ وَالدَّحْضِ
انگریزی ترجمہ
Narrated Ibn Abbas: He said to his mu'adhdhin on a rainy day: "When you say 'I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah,' do not say 'Come to prayer,' but say 'Pray in your homes.'" The people seemed to disapprove. He said: "One better than me did this. The Friday prayer is an obligation, and I did not want to cause you hardship by making you walk in mud and slippery conditions."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے مؤذن سے ایک دفعہ بارش کے دن کہا کہ«أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰهِ»کے بعد«حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ»”نماز کی طرف آؤ“نہ کہنا بلکہ یہ کہنا کہ«صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ»”اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو“، لوگوں نے اس بات پر تعجب کیا تو آپ نے فرمایا کہ اسی طرح مجھ سے بہتر انسان (رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم) نے کیا تھا، بے شک جمعہ فرض ہے اور میں مکروہ جانتا ہوں کہ تمہیں گھروں سے نکال کر مٹی اور کیچڑ (پھسلن) میں چلاؤں۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 405]
