عربی (اصل)
366 صحيح حديث جَابرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ جَاءَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَمَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، قَالَ: يَا رَسولَ اللهِ مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: واللهِ مَا صَلَّيْتُهَا فَقُمْنَا إِلَى بُطْحَانَ، فَتوَضَّأَ للِصَّلاَةِ، وَتَوَضَّأْنَا لَهَا، فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ
انگریزی ترجمہ
Narrated Jabir ibn Abdullah: Umar ibn al-Khattab came on the Day of the Trench after the sun had set, and began cursing the disbelievers of Quraysh. He said: "O Messenger of Allah, I could barely pray the Asr prayer before the sun was about to set." The Prophet (peace be upon him) said: "By Allah, I have not prayed it either." So we went to Buthan, and he performed ablution for the prayer and we performed ablution. He prayed the Asr after the sun had set, then prayed the Maghrib after it.
اردو ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر (ایک مرتبہ) سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور وہ کفارِ قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے، انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! سورج غروب ہو گیا اور نمازِ عصر پڑھنا میرے لیے ممکن نہ ہو سکا، اس پر نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نماز میں نے بھی نہیں پڑھی ہے۔“پھر ہم وادیِ بطحان میں گئے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے وہاں نماز کے لیے وضو کیا، ہم نے بھی وضو بنایا، اس وقت سورج ڈوب چکا تھا، پہلے آپصلی اللہ علیہ وسلمنے عصر پڑھائی، اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 366]
